مسئلہ کشمیر کو حل کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے،منوہر پاریکر

مسئلہ کشمیر کو حل کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے،منوہر پاریکر

نئی دہلی: سابق بھارتی وزیردفاع اور گوا کے وزیراعلی منوہر پاریکر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کیلئے ایک طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔تاہم انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ وزیردفاع کی حیثیت سے کشمیر کی صورتحال کو لیکر پر ان پر شدید دباؤتھا ۔ سابق بھارتی وزیردفاع نے بابا صاحب ایمبیڈکر کی 126ویں جنم دن پر منعقدہ ایک تقریب کے حاشیئے پر اخبار نویسوں کو بتایا کہ چونکہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے  کیونکہ اب ان کو اس معاملے پر براہ راست بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ مسئلہ کشمیر کوحل کرنا آسان بات نہیں اور یہ کہ یہ مسئلہ حل کرنا بچوں کا کھیل نہیں ہے بلکہ اس کیلئے لازمی ہے کہ ایک کثیر جہتی اور طویل مدتی حکمت عملی اختیار کی جائے ۔


انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر جس طرح سے پیچیدہ ہو گیا ہے اس کو لیکر ہر روز نئی باتیں سامنے آرہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر مسئلے پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک سنجیدہ پالیسی کو اختیار کرلینا ہوگا ۔ اگر آپ اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو یہ میڈیا کی چکا چوند سے دور ہی ہوسکتا ہے نہ ہی میڈیا میں چھاجانے کے ساتھ یہ مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا ہے کہ میڈیا کو کسی بات سے روکا جاناچاہئے لیکن میں اس بات کے حق میں ہوں کہ مسئلہ کشمیر جیسے پیچیدہ ترین مسئلے کو حل کرنے کیلئے میڈیا کی چکاچوند لازمی نہیں بلکہ اس کیلئے خفیہ سفارتکاری ہی کام کرسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک کے حالات بھی کشمیر پر اثر انداز ہوتے ہیں لہذا پڑوسی ملک کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہی ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ تشدد کی جڑ کو ختم کرنا ہوگا اور سرحد پار سے دراندزی کو ہمیشہ کیلئے بند کرنا ہوگا تب جا کراس مسئلے کا کوئی قابل قبول حل نکالنے کی کوشش کی جاسکتی ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر میڈیا میں بحث ومباحثے کے ہر بار منفی اثرار مرتب ہوئے ہیں کیونکہ اس طرح سے کوئی ایک بات کرتا ہے تو دوسرا دوسری بات کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ طور پر اس مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے اور اس پر کوئی بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

نیوویب ڈیسک< News Source