پانامہ بنچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ

پانامہ بنچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ
فوٹو :انٹرنیٹ

اسلام آباد:پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے بنچ کے رکن سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔


ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کی لاہور میں رہائشگاہ پر فائرنگ کا واقعہ گزشتہ شب اور آج صبح پیش آیا جبکہ فائرنگ کے واقعے کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی پنجاب کو فوری موقع پر طلب کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی باتیں قصہ خوانی بازار کی طرح ہیں:وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثارجسٹس اعجازالاحسن کی رہائش گاہ پہنچ گئے ہیں اور وہ فائرنگ کے واقعے کے بعد پورے معاملے کی خود نگرانی کررہے ہیں۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے جسٹس اعجاز الاحسن کو پانا مہ کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے نگراں جج تعینات کیا تھا۔

وہ شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف نیب میں دائر ریفرنسز میں پیش رفت کو مانیٹرکررہے ہیں۔قانون نافذکرنے والے ادارے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں جبکہ موقع سے گولیوں کے خول بھی برآمد کر لیے گئے ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن ماڈل ٹاؤن ایچ بلاک میں رہائش پذیر ہیں۔

رینجرز نے جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ کے باہر سکیورٹی سنبھال لی ہے ،چیف جسٹس واقعے کی صورت حال کو خود مانیٹر کر رہے ہیں جبکہ انہوں نے  پشاور جانے کا پروگرام وقتی طور پر ملتوی کردیا اورچیف جسٹس پاکستان نے آئی جی پنجاب پولیس سے واقعہ کی مکمل تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

سی سی پی او لاہور نے علاقے کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کے احکامات جاری کردیئے ،چیف جسٹس پاکستان نے آج شام تک مکمل رپورٹ فراہم کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب نے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لے لیا اور واقعہ میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے  آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مرنا قبول،پی ایس پی میں نہیں جاﺅں گا،تمام راز چیف جسٹس کے سامنے اگلنا چاہتا ہوں:ڈاکٹر فاروق ستار

و اضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پانا مہ کیس کے فیصلے میں نیب کو حکم دیا تھا کہ 6 ہفتے کے اندر ریفرنس تیار کر کے راولپنڈی اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش کرے۔

یہ بھی پڑھیں:کرینہ کپور نے دوسری شادی کی خواہش کا اظہار کر دیا

چیف جسٹس سے درخواست کی گئی تھی سپریم کورٹ کے ایک جج کو نیب اور احتساب عدالت کی کارروائی مانیٹرنگ اور نگرانی کے لئے نامزد کیا جائے۔جسٹس اعجاز الاحسن پانامہ بنچ کے رکن بھی رہے جو کہ شریف خاندان کے خلاف کیس کی سماعت کررہا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں