آصف سعید کھوسہ نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا،عمران خان کا بطور کرکٹر مداح تھا: جسٹس قاضی فائز عیسی

آصف سعید کھوسہ نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا،عمران خان کا بطور کرکٹر مداح تھا: جسٹس قاضی فائز عیسی
کیپشن:   آصف سعید کھوسہ نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا سورس:   file

اسلام آباد: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیرقانون فروغ نسیم کو عہدے سے ہٹانے اور شہزاد اکبر کو جیل میں ڈالنے کا مطالبہ کردیا۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ شہزاد اکبر نیب میں 8 ہزار پر ملازم تھا اتنی دولت کہاں سے آئی کوئی پوچھنے والا نہیں۔فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ دینے پر مجھے جج کے عہدے سے ہٹانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا۔عمران خان کا بطور کرکٹر مداح تھا ان سے آٹو گراف بھی لیا۔

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدارتی ریفرنس نظرثانی کیس کی سماعت  جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ بنچ نے کی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ذاتی حیثیت سے دلائل  جاری رکھے۔انہوں نے کہا کہ معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے پر قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی گئی۔کیس ایف بی آر کو بھجوانے کا فیصلہ عدالتی اختیارات سے تجاوز تھا۔ججز سے غلطی ہو جائے تو نظر ثانی کا اختیار حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی شخص کے ٹیکس ریکارڈ تک غیر قانونی رسائی فوجداری جرم ہے۔وزیر قانون نے اپنے دلائل میں انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 198 کو بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا تھا۔ ۔میری اہلیہ کیس میں فریق نہیں تھیں پھر بھی انکے خلاف فیصلہ دیا گیا۔اپنی اہلیہ بیٹی اور بیٹے سے معذرت خواہ ہوں۔میری وجہ سے اہلیہ اور بچوں کے خلاف فیصلہ آیا۔

فروغ نسیم کو عہدے سے ہٹایا جائے: جسٹس فائز عیسیٰ

وزیر قانون فروغ نسیم کے حوالے سے جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ فروغ نسیم کے لیے عدالت کا احترام نہیں وزرات ضروری ہے۔انہوں ںنے میری اہلیہ اور مجھ پر الزامات عائد کیے۔فروغ نسیم کو شاید اسلامی تعلیمات کا بھی علم نہیں۔کہنے کو ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان دراصل منافقین کی قوم ہیں۔سماعت مکمل ہونے کے بعد بھی فروغ نسیم نے تحریری دلائل جمع کراتے رہے۔فروغ نسیم نے حلف کی خلاف ورزی کی انہیں فوری طور پر برطرف کیا جانا چاہیے۔فروغ نسیم کے کہنے پر انور منصور نے ججز کے خلاف بیان دیا۔اس موقع پر انہوں نے شعربھی پڑھا۔

غم عشق لیکر ہم جائیں کہاں 

آنسوؤں کی یہاں کوئی قیمت نہیں

سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان نے بدنیتی پر مبنی کارروائی کی: جسٹس قاضی فائز عیسٰی

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم جوڈیشل کونسل پر بدنیتی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان نے بدنیتی پر مبنی کارروائی کی۔ کونسل نے کبھی مجھے صفائی کا موقع نہیں دیا۔اس نے انصاف کا قتل عام کیا۔صدر نے میرے تین خطوط کا جواب تک دینا گوارا نہیں کیا۔مجھے ریفرنس کی کاپی نہیں ملی لیکن میڈیا پر بینڈ باجا شروع ہوگیا۔میرے اور اہلخانہ کیخلاف ففتھ جنریشن وار شروع کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آصف سعید کھوسہ نے میرا موقف سنے بغیر میری پیٹھ میں چھرا گھونپا۔میرے ساتھی ججز نے جوڈیشل کونسل میں مجھے پاگل شخص قرار دیا۔وحید ڈوگر سمیت کسی درخواست گزار کودلائل دینے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔میں خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا۔میں ہمت نہیں ہاروں گا۔سپریم جوڈیشل کونسل کے خلاف مجھے سنگین تحفظات ہیں۔میرا کیس دوبارہ جوڈیشل کونسل بھجوانے پر اس حوالے سے دلائل دوں گا۔

عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں: فائز عیسیٰ

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے بطور جج سپریم کورٹ کے عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔مجھے عہدے سے ہٹانے کی خواہش کی وجہ یہ ہے کہ میں نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ دیا۔مرحوم خادم حسین رضوی نے بھی فیض آباد دھرنا کیس فیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیل دائر نہیں کی۔خادم رضوی کے علاوہ باقی سب نے فیض آباد دھرناکیس کا فیصلہ چیلنج کیا۔حتی ٰکہ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم نے بھی فیض آباد دھرنا فیصلے کیخلاف نظرثانی اپیل دائر کی۔تحریک انصاف کی نظرثانی درخواست میں کہا گیا میں جج بننے کا اہل ہی نہیں ہوں۔میں واقعی جج بننے کا اہل نہیں کیوں کہ میں بنیادی حقوق کی بات کرتا ہوں۔

بار بار دو ججز پر الزامات نہ لگائیں، جسٹس منیب اختر

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ججز پر الزام لگائے تو جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ بار بار دو ججز پر الزامات نہ لگائیں۔جسٹس مقبول باقر نے کہا اپنے کیس پر دلائل دیں آپکی مہربانی ہوگی۔اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کہا گیا عمران خان کی فیملی کے بارے میں بات نہیں ہوسکتی۔عمران خان کرکٹر تھے تو ان کا مداح تھا اٹوگراف بھی لیا۔عمران خان بھی ایک انسان ہیں۔جسٹس  ر عظمت سعید میرے دوست تھے لیکن ان کے فیصلے پر دکھےہوا۔جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید آج حکومت کی پسندیدہ شخصیت ہیں۔

باہر سے نہیں اندر سے خطرہ ہے: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ  ملک کو باہر سے نہیں اندر سے خطرہ ہے۔پاکستان کو باہر سے کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔ اس پر بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلے میں جو غلطیاں ہیں ان کی نشاندہی کریں۔سپریم جوڈیشل کونسل کے بارے میں آپکے وکیل نے دلائل نہیں دئے تھے۔جسٹس قاضی فائز نے کہا میری درخواست کا ایک حصہ ریفرنس دوسرا جوڈیشل کونسل کے متعلق تھا۔جسٹس منیب اختر نے کہا آپ کے وکیل نے جوڈیشل کونسل والے حصے پر دلائل نہیں دئیے تھے۔آپسپریم جوڈیشل کونسل والے حصے پر نظرثانی میں دلائل کیسے دے سکتے ہیں۔

 جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان مکالمہ

کیس کی سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان مکالمہ ہوا۔جسٹس منیب اختر نے کہا میرا سوال سن لیں۔اس پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا  معزز جج صاحبان میری دلیل سے اتفاق کریں یا اختلاف کریں یہ انکی صوابدید ہے۔مجھے اپنے دلائل دینے کا تو حق حاصل ہے۔اس پر جسٹس منیب اختر نے کہا  آپ اس وقت درخواست گزار ہیں، میں بنچ کے رکن جج کے طور پر سوال پوچھ رہا ہوں۔اس پر جسٹس عمر عطابندیال نے کہا  سوال پوچھنا جج کی صوابدید  ہے۔جسٹس مقبول باقر نے کہا آپ تحمل کا مظاہرہ کریں۔جسٹس منیب اختر نے کہا  جو بات میں نے کی نہیں وہ میرے سے منسوب مت کریں۔میں نے صرف ایک سوال پوچھا ہے۔ا س پر جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا میں معذرت خواہ ہوں۔

شہزاد اکبر کو جیل میں ہونا چاہیے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے بارے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ  اثاثہ جات ریکوری یونٹ قانونی وجود نہیں رکھتا۔شہزاد اکبر پاکستان تحریک انصاف کا رکن ہے۔شہزاد اکبر کو جیل میں ہونا چاہیے۔شہزاد اکبر ملک کا بااثر شخص ہے اس لیے اس سے کوئی نہیں پوچھتا۔شہزاد اکبر نیب میں آٹھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دار ملازم تھا۔ان کی دولت میں کیسے غیر معمولی طور پر اضافہ ہوا کوئی پوچھنے والا نہیں۔پاکستان میں اس وقت سائے حکمرانی کر رہے ہیں۔ہمیں یہ تک معلوم نہیں ہم جمہوری دور میں رہ رہے ہیں یا آمریت کا دور چل رہا ہے۔اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی تشکیل کیلئے مختلف محکموں سے لوگوں کو اٹھایا گیا۔