ادھورا فیصلہ …

ادھورا فیصلہ …

ملک کی تعمیر اور جمہوریت کے قیام کا بنیادی مقصد ہوتا ہے عوام کو حقوق دینا، معاشرے میں مساوات پیدا کرنا، ہر ایک کو انصاف فراہم کرنا، شہریوں کی آزادی کو یقینی بنانا۔ اس بنیادی ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ملک میں متعدد شعبے قائم کئے جاتے ہیں ایک کو دوسرے سے جدا رکھا جاتا ہے، ہر ایک کو آزاد بنایا جاتا ہے، جامع اور لچکدار آئین وضع کئے جاتے ہیں جس میں ہر ایک پہلو کا خیال رکھا جاتا ہے، غریب، مظلوم، کمزور سبھی کو یکساں حقوق دینے کی بات ہوتی ہے۔ آئین میں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ قانون سب کے لئے برابر ہو گا، ہر کوئی قانون کے دائرے میں ہو گا، کسی کو قانون میں استثنا حاصل نہیں ہو گا پھر اس آئین میں تمام انسانوں اور شہریوں کو مساوات کا حقدار ٹھہرایا جاتا ہے۔ کسی کو کسی پر کسی بھی بنیاد پر ترجیح حاصل نہیں ہوتی، سبھی برابر حقوق کے حقدار ہوتے ہیں۔ آئین میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ملک کے مختلف ادارے آزاد اور خود مختار رہیں گے، ایک کا دوسرے پر دباؤ نہیں ہو گا۔ عدلیہ مکمل طور پر آزادی اور غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انصاف قائم کرے گی۔ عدلیہ حقائق اور ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ سنائے گی۔ یہی کسی عدالت کی بنیادی خصوصیات ہوتی ہیں، اسی کا نام انصاف ہے۔

لیکن جو کچھ گزشتہ ہفتہ کے روز اسلام آباد میں ہوا کیا وہ درست تھا؟ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے حوالے سے لئے گئے سو موٹو کیس میں ہم نے دیکھا کہ اعلیٰ عدلیہ نے اتوار کو عدالت لگا کر نوٹس جاری کر دیئے اور پھر فیصلہ سنا دیا گیا۔ حکومت کی خواہش تھی کہ اگر سپیکر کی رولنگ کی بات کی جا رہی ہے تو پھر اس خط کو بھی دیکھا جائے جس میں واضح ہوتا ہے کہ عمران خان کی حکومت کو گرانے کے لئے سازش باہر کے ملک میں تیار کی گئی اور ہماری اپوزیشن کے سیاست دان اس سازش کا خود بھی حصہ ہیں۔ سپریم کورٹ نے سپیکر کی رولنگ کے خلاف دیئے گئے فیصلے پر عملدرآمد نہ 

ہونے پر ہفتے کی شب سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے دروازے کھلوا دیئے تا کہ فیصلے پر عمل درآمد کرایا جائے۔ چیف جسٹس اور چار دیگر جج سپریم کورٹ میں الرٹ بیٹھے رہے۔ ہفتہ کی رات پراسرار واقعات رونما ہوئے ۔ یہ حقیقت ابھی صیغہ راز میں ہے کہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کس نے کیوں کھلوائیں۔ پھر قیدیوں والی گاڑی کا اسمبلی ہال کے باہر کھڑے ہونا، رینجرز کا اسلام آباد میں گشت کرنا یہ سب باتیں بڑی حیران کن ہیں، بظاہر مفروضوں پر غیبی قوتیں کام کر رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہفتے کی رات حالات اس قدر خراب تھے کہ آدھی رات کو عدالت لگائی جاتی۔ بڑی حیران کن بات ہے کہ عدالتیں خود سے ہی وقتِ مقررہ سے کئی گھنٹے قبل کھل گئیں کہ فلاں جرم سرزد نہ ہو جائے جب اگر پی ٹی آئی کی حکومت سپریم کورٹ کی ہدایت پر نہ بھی عمل کرتی تو صبح یہ کام دوبارہ سے ہو سکتا تھا یعنی توہینِ عدالت کی کارروائی جا سکتی تھی یا پھر کوئی پٹیشن لی جا سکتی تھی۔ آنے والے دنوں میں اعلیٰ عدلیہ کے اس فیصلے پر دیر تک بحث بھی ہوگی، بہت کچھ لکھا بھی جائے گا، لیکن تب بہت دیر ہو چکی ہو گی اور یہ ایک بہت پیچیدہ سوال ہے۔ اس کے اثرات بھی اب آنا شروع ہو گئے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر عمران خان کی کال پر اکٹھے ہونے والے لوگ اداروں کے خلاف نعرے بازیاں کرتے رہے۔ یہ صورتحال میرے خیال میں کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے نہ تو اداروں کے اور نہ ہی سیاستدانوں کے۔ عوام میں ایسی پھیلنے والی بے چینی آنے والے وقتوں میں بے حد گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ عوام کی طاقت سے ہی اصل طاقت ہوتی ہے۔ عمران خان کی حکومت گرائے جانے کے بعد جس غم و غصے کا اظہار عوام نے کیا اس نے حالیہ دنوں میں بڑے اثرات ڈالے ہیں۔ خود مختلف چینلز پر بیٹھے ریٹائرڈ آرمی پرسنز نے اس پر گہرے تفکر کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کے روز ہونے والے احتجاج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام الناس میں بھی بیرونی مداخلت کا تاثر غالب ہوتا نظر آ رہا ہے۔ جس طرح کی ان احتجاجی جلوسوں میں نعرے بازی کی جا رہی تھی اس کا یہاں ذکر کرنا بھی شائد مناسب نہ ہو۔ اتوار کی رات لوگوں کے غم وغصے کا یہ حال تھا کہ اس وقت اشتعال اس قدر زیادہ تھا کہ اداروں یا پی ٹی آئی کی طرف سے تھوڑی سے بھی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جاتا تو بات بہت دور چلی جاتی۔

پاکستان میں جمہوریت کی رٹ تو بہت لگائی جاتی ہے لیکن مجھے حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ جب بھی جمہوریت کی بات کی جاتی ہے تو ہمارے سیاست دان خود سے کیوں اپنے معاملات نہیں سنبھالتے۔ کیوں اداروں کی طرف دیکھتے ہیں۔ طاقت آزمائی کا کھیل چل نکلے تو اسے قابو میں رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کھیل میں کئی بار ریاستی ڈھانچہ بکھر جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے انارکی پیدا ہونے لگتی ہے۔ ہم ایسے ہی خطرے کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ موجودہ نظام میں اپنا اپنا مقام حاصل کرنے میں سرگرداں افراد اور ادارے باہمی کشمکش کو حدود میں رکھنے کی کوشش کریں۔معاملات حدود سے باہر نکل جائیں تو فوراً پھر انہیں سنبھالنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ہمارے ہاں کے جمہوری نظام کو مستحکم منزل تک پہنچایا جانا چاہئے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کہہ رہے ہیں کہ ان کے پیچھے 22 کروڑ عوام ہیں اتنی ساری پارٹیوں نے مل کر مشترکہ حکومت بنائی ہے۔ پی ڈی ایم خود فیصلہ کرے کیا صرف سپریم کورٹ کے فیصلے سے جو انہیں حکومت ملی ہے اس سے بحران ختم ہو گیا ہے؟ بالکل نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں یہ بحران بڑھے گا۔ ہماری اعلیٰ عدلیہ سے درخواست ہے کہ وہ لیٹر گیٹ سمیت تمام معاملات جن میں لوٹا کریسی، سندھ ہاؤس میں اراکین کو یرغمال بنایا جانا، وزیرِ اعظم پر مقدمات ان سب پر ضرور غور وخوض کرے بلکہ ہو سکے تو نظرثانی کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے ان تمام نکات کا جائزہ لیا جانا عین انصاف ہو گا۔ تا کہ ادھورا فیصلہ مکمل ہو سکے۔

مصنف کے بارے میں