نصر اﷲملک اور پی ٹی آ ئی کی قلعی اور نئی حکومت

نصر اﷲملک اور پی ٹی آ ئی کی قلعی اور نئی حکومت

انتہا ئی غیر متنازع اور وطنِ عز یز کے سینئر صحافی جنا ب نصر اﷲملک نے پی ٹی آ ئی کے بارہ اپریل کو لبرٹی چوک لا ہور میں جمع ہو نے والے کا رکنو ں سے صرف یہی پوچھا تھا کہ تحریکِ انصا ف کواسمبلیو ں میں وا پس جا نا چا ہیے یا جو استعفے دے دیئے ہیں، اس کے بعد الیکشن کی ڈیما نڈ ہی کر نی چاہیے۔ صاف نظر آ تا ہے کہ ملک صا حب کا یہ سوال پی ٹی آ ئی کا بیا نیہ اس کی حقیقی شکل میں عوام النا س تک پہنچا نے کی غر ض سے تھا۔ مگر جواب میں ان کے ساتھ پی ٹی آ ئی کے کا رکنوں کی جا نب سے جس طر ز کی بد تمیزی کی گئی اس نے پی ٹی آ ئی کے کلچر کی قلعی کھو ل کر رکھ دی ہے۔ انہیں جس قسم کی گا لیوں سے نوا زا گیا، وہ یہاں بیان کر تے وقت روز نا مہ نئی با ت کی وضع داری اور روا داری میر ے آ ڑے آ رہی ہے۔ جہا ں میں ملک صا حب کے حو صلے اور صبر کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ انہوں نے کس طرح حا لا ت کو یک طرفہ طو ر پر مز ید بگڑنے سے بچا یا، وہیں قا نو ن نا فذ کر نے والے اداروں سے اپیل کر تا ہوں کہ اس واقعہ کو اس کے منطقی انجا م تک پہنچا ئیں۔ 

کا لم کی طوالت کو مدِ نظر رکھتے ہو ئے اب آ تے ہیں نئی حکو مت کی جانب۔تووزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز اپنی ذمہ داریاں باقاعدہ سنبھالتے ہوئے کام کا آغاز نمائندہ ماہرین معیشت کے ساتھ ملاقات سے کیا۔ ملاقات میں وزیراعظم نے ماہرین کو معاشی بہتری کی تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی جبکہ نیشنل اکنامک ایڈوائزری کونسل تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا جو آزاد ماہرین معیشت پر مشتمل ہو گا۔ آنے والے دنوں میں ایک معاشی سمٹ کرانے کی بات بھی کی گئی جس میں ماہرین معیشت کی پیش کی گئی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ اقدامات واضح کرتے ہیں کہ نئی حکومت معیشت کی ڈانواں ڈول کشتی کو سنبھالنے کے حوالے سے فکرمند ہے، مگر یہ مدنظر رہنا چاہیے کہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔ ٹھیک ہے، اہم اقدامات سے پہلے مشاورت ضروری ہوتی ہے لیکن حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں بہت زیادہ باتوں اور رسمی اجلاسوں کے بجائے عملی اقدامات کی طرف آنا چاہیے اکنامک ایڈوائزری کونسل کہنے کو بڑا پُرکشش آپشن ہے، سابقہ حکومت نے بھی اپنے شروع کے دنوں میں اس قسم کی ایک کونسل بنائی تھی، مگر اس سے وہ نتائج حاصل نہیں ہوسکتے جن کی توقع تھی؛ چنانچہ موجودہ حکومت کو اس سے الگ کوئی مناسب لائحہ عمل اختیار کرنا پڑے گا۔ ماہرین کی آرا حکومتی پالیسی کو درست سمت میں رہنمائی کرسکتی ہے مگر حکومت کی فیصلہ سازی صرف رسمی کونسل پر منحصر نہیں ہوسکتی۔ کونسل متوازی سطح پر ضرور کام جاری رکھے اور اگلے بجٹ کے لیے تجاویز پیش کرے۔ مگر ہنگای نوعیت کے فیصلوں کے لیے حکومت کو اپنی معاشی ٹیم کی دانش اور قوتِ فیصلہ پر انحصار کرنا ہوگا۔ نئی حکومت کی معاشی ذمہ داریاں کس کے کندھوں پر ڈالی جائیں گی، اس حوالے سے اگرچہ باقاعدہ اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا؛ تاہم غالب امکان ہے کہ اس کا قرعہ مفتاح اسماعیل کے نام نکلے گا۔ وہ معیشت کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربے کے حامل ہیں اور شاہد خاقان عباسی کی حکومت میں وفاقی وزیر معاشیات کے مساوی عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے معاشی معاملات پر پریس کانفرنس میں تجارتی خسارے اور دیگر امور پر تفصیل سے گفتگو کی اور یہ بتایا کہ آئی ایم ایف کے پاس جائے بغیر چارہ نہیں، نیز یہ کہ نئی حکومت سابق حکومت کے عالمی معاہدوں کی پاسداری کرے گی۔ تکنیکی باتیں ساری درست ہیں مگر پریشانی اس وقت ہوتی ہے جب معیشت جیسے تکنیکی شعبے کے ذمہ دار لوگ بھی معیشت اور سیاست کو گڈمڈ کر جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسا عام طور پر اس طرح ہوتا ہے کہ ناکامی اور پریشانی کی ساری ذمہ داریاں سابق حکومت پر عائد کردی جاتی ہیں۔ سابق حکومت بھی یہ کرتی رہی کہ اپنے اقتدار کے چوتھے برس میں بھی وہ خرابیوں کے باب میں اپنی پیشرو حکومتوں کے عمل دخل کو نہیں بھولی تھی۔ اب بھی ہوتا یہی دکھائی دے رہا ہے، جس کی ایک واضح جھلک گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے معاشی ماہرین کی پریس کانفرنس میں دکھائی دی۔ یہ کہا گیا کہ سابق حکومت معاشی میدان میں بارودی سرنگیں لگا گئی ہے۔ یہ باتیں بہت ہوچکیں۔ جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تھی تو وہ بھی یہی کہتی تھی۔ بنیادی بات یہ ہے کہ آپ آگے کچھ بہتری کرسکتے ہیں؟ اگر اس کا جواب یہ ہے کہ فوری طور پر مہنگائی میں کمی نہیں کرسکتے تو عوام کے لیے یہ بے معنی ہیں کہ سابق حکومت کیا کچھ کر گئی ہے۔ پاکستان کے عوام حکمرانوں کے یہ 

عذر اور دلیلیں اب سمجھنے لگے ہیں۔ حکمران سیاسی جماعتیں بدلتی ہیں،کارکردگی اور بیانیہ عمومی طور پر ایک سا رہتا ہے۔ کامیابی کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی سوچ اور طرزِ عمل کو تبدیل کیا جائے۔ جتنا وقت ماضی کے حکمرانوں کو کوسنے میں لگایا جاتا ہے اگر اپنی پالیسیوں اور حالات کو بہتر کرنے پر لگایا جائے تو ملک اور عوام کے لیے واقعتاً کوئی بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ موجودہ حکومت کو ایک مشکل یہ درپیش ہوگی کہ اسے اقتدار ہنگامی حالات میں ملا ہے اور اس کے پاس وقت بھی کافی ہے۔ اگر انتخابات اپنے وقت پر ہوں تو بھی یہ کوئی سال بھر کی مدت بنتی ہے۔ اس مختصر دور میں پہلی حکومت کی پالیسیوں کو جاری رکھنا ہے یا اپنی نئی پالیسیوں کو لے کر چلنا ہے، یہ حکومت کے لیے مشکل ترین فیصلہ ہے۔ یہ وقت کے خلاف دوڑنے جیسا ہے۔ انتظامی 

معاملات میں شاید اس سے زیادہ مشکل نہ ہو مگر معاشی شعبے میں حکومت کو بہت سی تبدیلیاں ضرور کرنا پڑ سکتی ہیں۔ بس یہ احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیے کہ معاشی مینجمنٹ ایسی ہو جس سے عوام پر بوجھ بڑھنے نہ پائے۔ موجودہ حکومت اگرچہ بہت سی جماعتوں کا مجموعہ ہے مگر پیش منظر میں مسلم لیگ (ن) کا چہرہ ہے۔ چنانچہ اس حکومت کی کامیابیوں یا ناکامیوں کی ذمہ داری بھی مسلم لیگ (ن) ہی پہ آئے گی۔ حکومت کے لیے دو اہم ترین سوال یہ ہیں کہ کیا وہ اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں کسی قدر کمی کرسکتی ہے؟ کیا وہ توانائی کے نرخوں میں کوئی ریلیف دے سکتی ہے؟ اس سلسلے میں حکومت کا کوئی عذر اور نہ کوئی دلیل سنی جائے گی۔ یہ یاد رہنا چاہیے کہ حکومت کو عمران خان کی اپوزیشن کا سامنا ہوگا اور وہ آنے والے مہینوں میں شہر شہر جلسے کرکے اور سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت کو ٹف ٹائم دیتے رہیںگے۔ مفتاح اسماعیل صاحب نے تو بڑی آسانی سے کہہ دیا کہ فی الفور مہنگائی کم نہیں کرسکتے، مگر حکومت کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ دو دھاری تلوار پر چلنے جیسا ہے، اگر مہنگائی کم کرنے کے لیے سبسڈی دیتے ہیں تو اس سے مالی بوجھ بڑھے گا۔ حکومت کو کوئی درمیانی راستہ نکالنا چاہیے۔ یعنی پرائس مینجمنٹ اور گراں فروشی کا خاتمہ جبکہ درآمدی لازمی اجزائے خوراک کی فروخت پر سبسڈی دینے کے بجائے ان کی درآمد پر عائد ٹیکس کم کرکے ان اشیا کی قیمتوں میں کی جانی چاہیے۔ بلاشبہ آغاز ہی میں آثار اچھے نظر آرہے ہیں۔ تین کاروباری دنوں میں ڈالر کی قیمت 6 روپے 16 پیسے کم ہوئی جس کے نتیجے میں بیرونی قرضوں کے بوجھ میں 800 ارب روپے کمی واقع ہوئی۔ دوسری جانب کئی دنوں کی مندی کے بعد کاروباری ہفتے کے پہلے دو دنوں میں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مسلسل بہتری مشاہدے میں آئی ہے۔ یہ کوئی معمولی پیش رفتیں نہیں کہ جنہیں نظر انداز کردیا جائے۔ یہ بڑی اچھی، صائب اور مثبت بات ہے کہ نئے وزیراعظم نے معاشی مسائل کے حل کو اپنی حکومت کی اولین ترجیحات میں رکھا ہے۔ ضروری ہے کہ وہ دوسرے داخلی مسائل کو بھی نظروں میں رکھیں کہ ایک ایک کرکے انہیں بہرحال ان کا حل بھی تلاش کرنا پڑے گا۔اس وقت جو داخلی صورت حال چل رہی ہے، اس میں عدم تشدد کی فضا کو ہموار و استوار کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ مفاہمت کو فروغ ملنا چاہیے اور اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ اختلافات اور دشمنی میں کیا فرق ہے۔ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان انتقام کی سیاست نے پہنچایا ہے۔ چنانچہ ملک کو داخلی طور پر مضبوط و مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاست میں مخاصمت کے عنصر کو ختم کیا جائے۔

مصنف کے بارے میں