سفارتی بحران میں قطر کی درخواست پر فو جی مدد فرا ہم کی ، تر کی

سفارتی بحران میں قطر کی درخواست پر فو جی مدد فرا ہم کی ، تر کی

استبول: دو ماہ قبل پڑوسی ملکوں کے سفارتی بائیکاٹ کے بعد قطر نے اپنے حلیف ترکی سے فوج اور جنگی سازو سامان فراہم کرنے کی درخواست کی جو تیزی کے ساتھ منظور کی گئی تھی۔’العربیہ‘ کے مطابق دوحہ کی جانب سے ترکی کو فوجی معاونت فراہم کرنے کی درخواست پر ترک پارلیمان کی طرف سے فوری جواب دیا گیا اور درخواست کی منظوری کے بعد فوجی کمک مہیا کی گئی تھی۔


دوحہ کی جانب سے ترکی سے فوجی امداد فراہم کرنے کی درخواست نے ترک فوج کے لیے ایک اڈے کے قیام کی اجازت دینے کے خدشات کو اور بھی تقویت ملی۔ کہا جا رہا ہے کہ دوحہ میں قائم ہونے والے فوجی اڈے میں تین ہزار ترک فوجیوں کو تعینات کیا جائے گا۔صرف فوجی نفری نہیں بلکہ قطر کی جانب سے سفارتی بحران کے آغاز میں ترکی سے بھاری جنگی آلات بھی فراہم کرنے کو کہا گیا تھا۔

حالانکہ قطر کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کا کوئی امکان نہیں تھا، اس کےباوجود دوحہ نے سفارتی بحران کی آڑ میں ترکی سے عسکری معاونت طلب کی تھی۔دوحہ کی درخواست پر ترکی نے چھ مرتبہ اپنے فوجی دستے خلیجی بحران کے دو ماہ کے عرصے میں قطر بھیجے ہیں۔

دوحہ میں ترک فوج کی تعداد کے بارے میں متضاد خبریں آتی رہتی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ قطر میں ترک فوج کی تعیناتی کا مقصد قطری حکومت کو گرانے کی کسی بھی سازش کو ناکام بنانا ہے۔

حالانکہ پڑوسی عرب ملکوں کی طرف سے قطعا قطر میں حکومت کی تبدیلی کی کسی کوشش کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔ دوحہ کی دہشت گردی کی معاونت پر معترض ممالک نے قطر کا صرف سفارتی بائیکاٹ کیا۔ ان کے قطر کے خلاف کسی قسم کے فوجی عزائم نہیں ہیں۔پیشگی جنگی تیاریوں کا قطری اقدام نیا نہیں۔

سنہ 2014میں بھی جب قطرکو علاقائی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے ترکی کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کیےتھے۔اسی سال امیر قطر نے ریاض میں ہونے والے تکمیلی معاہدے پر دستخط کئے مگر شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد قطر اس معاہدے سے پھر گیا۔