وہ حلقے جہاں شہباز شریف سمیت دس بڑے رہنماؤں کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں

وہ حلقے جہاں شہباز شریف سمیت دس بڑے رہنماؤں کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں

اسلام آباد: الیکشن ایکٹ کی رو سے قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑنے والے امیدوارکے لیے کم از کم 25 فیصد ووٹ لینا لازمی ہوتا ہے، بصورت دیگر اس کی ضمانت ضبط کر لی جاتی ہے۔ اس بار قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے والے 3ہزار 355میں سے 2ہزار 870امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کی گئی ہیں جن میں 10سے زائد لوگ بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہ اور نامور سیاستدان ہیں۔ ان میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن،پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیف محمود خان اچکزئی، بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیف ڈاکٹربلوچ، قومی وطن پارٹی کے صدر آفتاب احمد شیر پاؤ، پاک سرزمین پارٹی کے صدر مصطفیٰ کمال، ترقی پسند پارٹی کے چیف قادر مگسی، پاکستان تحریک انصاف (گلالئی)، اور پاکستان عوامی راج کے صدر جمشید دستی و دیگر شامل ہیں۔


ڈیلی ڈان کے مطابق سب سے زیادہ انتخابی ضمانتیں فاٹا (95.48 فیصد)، اسلام آباد(92.42 فیصد)، بلوچستان (91.98 فیصد) اور خیبر پختونخوا میں (86.13 فیصد) ضبط ہوئیں جبکہ سندھ میں (84.46 فیصد) اور پنجاب میں (84.46 فیصد) کا تناسب رہا۔فاٹا میں کل 266 انتخابی امیدواروں میں 254 کی انتخابی ضمانتیں ضبط ہوئیں، اسلام آباد کی تین نشستوں کے لیے لڑنے والے کل 66 میں سے 61 امیدواروں انتخابی ضمانتوں سے محروم ہو گئے۔اسی طرح بلوچستان میں سے کل 287 میں سے 264 اور خیبرپختونخوا سے کل 411 میں سے 354 انتخابی امیدوار 25 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے اور اپنی ضمانتوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔دوسری جانب سندھ سے کل 824 میں سے 696 انتخابی امیدوار جبکہ پنجاب سے 1 ہزار 501 میں سے 1 ہزار 241 امیدوار اپنے انتخابی حلقوں میں 25 فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہیں کرسکے۔

شہبا شریف این اے 3 سوات، بلاول بھٹو زرداری این اے 23 مالاکنڈ اور این اے 246 کراچی، مولانا فضل الرحمن اور آفتاب احمد شیر پاؤ اپنے آبائی شہر اے این 38 ڈی آئی خان اور این اے 23 مالاکنڈ، ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار این اے 245 اور این اے 247 کراچی، پی ایس پی کے چیف این اے 253 کراچیکی نشستوں پر 25 فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہ کرنے پر اپنے ضمانتوں سے محروم ہو ئے۔ٹی پی پی کے چیف مگسی این اے 213 نواب شاہ، محمود خان اچکزئی این اے 265 کوئٹہ، بی این پی کے چیف این اے 259ڈیرہ بگٹی، اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید این اے 250 کراچی اور جے یو پی کے نورانی صاحبزادہ عبدالخیر این اے 227 حیدرآباد میں عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے اور انتخابی ضمانت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

عائشہ گلالئی کو این اے 25 نوشہرہ، این اے 53 اسلام آباد، این اے 161لودھراں اور این اے 231 سجاول میں بدترین شکست کا سامنا رہا جبکہ جمشید دستی این اے 182 مظفرگڑھ، این اے 185 مظفرگڑھ اور این اے 189 ڈیرہ غازی خان میں 25 فیصد ووٹ حاصل کرنے پر اپنی زرضمانت سے محروم ہو گئے۔