وزیرا عظم کے انتخاب کا شیڈول جاری, رائے شماری جمعہ ساڑھے تین بجے سہہ پہر ہو گی

وزیرا عظم کے انتخاب کا شیڈول جاری, رائے شماری جمعہ ساڑھے تین بجے سہہ پہر ہو گی

فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا

اسلام آباد: وزیرا عظم کے انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے, جمعرات دوپہر دو بجے تک کاغذات نامزدگی جمع کرائے جاسکتے ہیں۔

کل جمعہ کو سہہ پہرساڑھے تین بجے ووٹنگ ہو گی اوپن رائے شماری کی بنیاد پر وزیر اعظم کا انتخاب کیا جائے گا جاری شیڈول کے مطابق قومی اسمبلی کے قائد ایوان (وزیر اعظم ) کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی آج دوپہر دو بجے تک جمع کروا جا سکیں گے، تین بجے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہو گی اور وزارت عظمی کے امیدواروں کی فہرست جاری کر دی جائے گی انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی سہہ پہرساڑھے تین بجے ہو گا ۔

اوپن رائے شماری کی بنیاد پر وزارت عظمٰی کا الیکشن ہو گا ڈویژن کے ذریعے ارکان دائیں اور بائیں کی لابیوں میں ووٹ ڈالنے چلے جائیں گے ووٹ ڈالنے کا عمل شروع ہونے پر قومی اسمبلی کے ایوان کے تمام دروازے بند کر دیے جائیں گے یہ دروازے ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے تک بند رکھے جائیں گے تاہم دروازے بند کرنے سے قبل پانچ منٹ کے لیے گھنٹیاں بجائی جائیں گی تا کہ ایوان سے باہر موجود ارکان ایوان میں آسکیں ۔

پاکستان تحریک انصاف اور اسکے اتحادی جماعتوں کے وزارت عظمٰی کے لیے امیدوار پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ہیں جبکہ ہم خیال جماعتوں کے امیدوار پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف ہیں ۔عمران خان نے وزارت عظمی کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے وزیراعظم کے لیے عمران خان کے تجویز کنندہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید ہیں جب کہ تائید کنندہ فخر امام ہیں۔قومی اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد اگلا مرحلہ وزیراعظم کے انتخاب کا ہے جس کے لیے کل دن 2 بجے تک کاغذات نامزدگی جمع کرائے جاسکتے ہیں۔

وزیراعظم کے لیے عمران خان کی جانب سے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی میں تجویز کنندہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید جب کہ تائید کنندہ فخر امام ہیں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف وزارت عظمی کے لیے بھی کاغذات نامزدگی جمع کروادیے گئے۔ان کے کاغذات نامذدگی پارٹی رہنماؤں خواجہ آصف، احسن اقبال اور ڈاکڑ درشن نے جمع کروائے۔قومی اسمبلی کے کل جمعہ کو اجلاس کے دوران قائد ایوان کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا جس کے لیے عمران خان کا مقابلہ متحدہ اپوزیشن کے امیدوار شہباز شریف سے ہوگا۔

ہفتہ 18 جولائی کو ایوان صدر میں صدر ممنون حسین نئے وزیراعظم سے حلف لیں گے۔واضح رہے کہ 342 رکنی ایوان میں وزیراعظم منتخب ہونے کے لیے 172 ووٹوں کا حصول لازمی ہے، اگر قائد ایوان کے لئے امیدواروں کی تعداد 2 یا اس سے زائد ہو یا کوئی امیدوار مطلوبہ تعداد میں ووٹ حاصل نہ کر سکے تو ایسی صورت میں عددی برتری رکھنے والے صرف 2 امیدواروں کے درمیان دوبارہ ووٹنگ ہوگی۔

اکثریت حاصل کرنے والا امیدوار کامیاب قرار پائے گا تاہم اگر دونوں امیدواروں کے ووٹوں کی تعداد برابر ہوئی تو ایسی صورت میں اسپیکر قومی اسمبلی کا ووٹ فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔