واقعہ کربلا اور ہم

Atta ur Rehman, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

آج عشرہ محرم کا چھٹا دن ہے…… چار روز بعد آئندہ جمعرات کو یوم عاشور ہو گا…… دنیا بھر کے شیعہ مسلمان اور سنیوں کی بھاری اکثریت اس دن کو نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے افراد کنبہ کی جن میں نہتی خواتین اور معصوم بچے بھی شامل تھے میدان کربلا میں یزیدی لشکر کے ہاتھوں مظلومانہ شہادت کی یاد تازہ کرتی ہے…… مجالس اور مساجد میں واقعہ کربلا کی تفصیلات بیان کی جاتی ہے…… شدت غم سے نڈھال سامعین ان پر گزرنے والے مصائب اور آلام کا تذکرہ کر کے گریہ و آہ وزاری کرتے ہیں …… ماتم کیا جاتا ہے…… حضرت حسین اور ان کے افراد خاندان کی حالت زار کا عقیدت بھرے الفاظ اور غمگین لہجوں میں ایسا ایسا تذکرہ کیا جاتا ہے کہ سننے والا غیرمسلم ہو بھی تو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا…… حضرت حسینؓ کی مظلومیت اور یزید کے ظالم فوجیوں کے ہاتھوں ان پر بے بسی کی کیفیت طاری کر کے شہادت سے دوچار کرنے کا المیہ ہمارے شعروادب کا استعارہ بن چکا ہے…… شاعری کی گئی ہے…… مرثیے رقم کئے گئے ہیں …… اردو ادب کی تاریخ ان بیانیوں سے بھری پڑی ہے…… میر انیس و دبیر جیسے چوٹی کے شاعروں نے تمام تر عروج اپنے مرثیوں کی وجہ سے حاصل کیا اور ہماری شاعری میں لازوال مقام پا لیا…… غالب سے لے کر اقبال اور آج کے عہد تک کی اعلیٰ شاعری کے نمونے حسین کی لازوال قربانی کو خراج تحسین سے مزین ہیں …… اس طرح شعراء، ادیب اور واعظین ہر سال مجالس منعقد کر کے اپنے اپنے کمالات کا مظاہرہ کرتے ہیں اور غم حسین کی محافل کو ایک زندہ اور ہماری ثقافت کے اندر رچی بسی روایات کا زندہ رکھنے کا باعث بنے ہوئے ہیں …… سنی مساجد میں بھی وعظ کی خصوصی محافل منعقد کی جاتی ہے جن میں عامتہ الناس اور معاشرے کے پڑھے لکھے لوگ پوری عقیدت کے ساتھ شرکت کر کے ہماری ابتدائی تاریخ کے سالوں کے اس اہم تر واقعے کے حوالے سے اپنے اندر جذبہ شہادت سے تسکین حاصل کرتے ہیں …… شیعہ بھائی اس موقع پر مخصوص اور جانی پہچانی رسومات ادا کرتے ہیں …… علم نکالے جاتے…… ذوالجناح کے جلوس برآمد ہوتے ہیں …… شرکاء سینہ کوبی کرتے ہیں …… اس طرح غم حسین کی یہ اہم تر تقریب ان کے یہاں سب سے بڑے مذہبی فریضے کی ادائیگی کا ذریعہ بن جاتی ہے…… جلوسوں کے راستوں پر جابجا ٹھنڈے پانیوں کی سلیبیں آراستہ کر کے حضرت حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کی پیاس کا غم بجھایا جاتا ہے…… یوم عاشور کی تقریبات کا خاتمہ شام غریباں کے انعقاد پر ہوتا ہے…… جس میں قافلہ حسینی کی وہ خواتین اور بچے جو تلواروں کی زد سے بچ گئے …… ان بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کی مظلومیت اور بے بسی کا ایسا منظر باندھا جاتا ہے کہ سن کر پتھر دل بھی ایک دفعہ موم ہو جاتے ہیں …… یہ چند جھلکیاں ہیں …… جن جانب اشارہ کر کے عشرہ محرم کے دوران اہل تشیع کی جانب سے نواسہ رسول کو ان کی مظلومانہ شہادت پر خراج عقیدت پیش کرنے کا حوالہ دیا گیا ہے ورنہ ان کے یہاں جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں محرم کی تقریبات غم جو عبادت کا درجہ رکھتی ہیں اس سے کہیں زیادہ اور مختلف نوع کی رسومات کی ادائیگی کی صورت میں کیا جاتا ہے…… اسی طرح سنّی مسلمانوں کی جیسا کہ عرض کیا گیا بھاری اکثریت اپنے انداز میں یہ دن مناتی ہے…… مجالس میں مواعظ کے علاوہ گھروں کے اندر ختم قرآن پاک کا گہری عقیدت کے ساتھ اہتمام ہوتا ہے…… نیازیں بانٹی جاتی ہیں …… پلاؤ اور حلیم کی دیگیں پکتی ہیں اور ان میں تیارکردہ خوان خوب تقسیم ہوتے ہیں …… پیشتر مقامات پر لوگ اپنے اپنے علاقے کے قبرستانوں کا رخ کرتے ہیں جہاں ان کے پیارے اس دنیا کو خیرباد کہہ کر ابدی نیند سو رہے ہوتے ہیں …… قبروں پر نئی مٹی ڈالی جاتی ہے…… انہیں پھولوں سے سجایا جاتا ہے…… پھولوں اور اگربتیوں کی خوشبوؤں سے پورا قبرستان مہک اٹھتا ہے…… یہ دن اتنے جوش و جذبے اور غم و اندوہ کی کیفیت میں ڈوب کر یوں منایا جاتا ہے کہ مجموعی طور پر ہمارے طرز احساس کا حصہ بن گیا ہے…… اس کی رسوم اور تقریبات کے ذریعے نہ صرف ہم مسلمانوں کے ایک بڑے اور اہم فرقے کے لوگوں کے لئے عبادت کا وسیلہ بن جاتا ہے بلکہ سنّی عوام کے یہاں منعقد ہونے والی تقریبات ساری تصویر کا حصہ بن کر غمِ حسین کو ہمارے یہاں کی ادبی و ثقافتی زندگی کا اہم جز بنا دیتی ہے یوں اہل سنت کے یہاں عیدین کے بعد 10 محرم کا دن مذہبی علامات کے اظہار کا سب سے بڑا سبب بن جاتا ہے…… 

حضرت حسینؓ کی شہادت عظمیٰ کی یاد اس لئے بھی گہرے رنج و غم کے ساتھ منائی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عظیم المرتبت آخری نبی حضرت محمد رسولؐ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کی چند دہائیوں کے بعد ان کے اہل بیت کو اس المیے سے دوچار ہونا پڑا اس وجہ سے یہ واقعہ طلوع اسلام کی پہلی صدی کے اندر ہی ہمارے ملی دامن پر اَن مٹ سیاہ داغ بن کر چپک سا گیا ہے کہ مٹائے نہیں مٹتا…… دوسرا اہم تر سبب اس کا وہ عظیم الشان مشن ہے جس کی تکمیل کی خاطر جناب حسین نا صرف حکومتِ یزید جیسی پہاڑ سے زیادہ وقت کی مضبوط طاقت اور فوج کے ساتھ جا ٹکرائے…… اپنی خواتین اور بچوں تک کو قربانی کے لئے پیش کر دیا…… وہ مشن اور مقصد جیسا کہ ہمارے علماء تاریخ 

اور شارحین اسلام نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اسلامی ریاست یا خلافتِ اسلامیہ کے مضبوط ترین ستون کو اپنی موروثی بادشاہت کو مضبوط کرنے کے لئے مسمار کر دیا گیا تھا…… یزید کی بیعت کھلے عام مسلمانوں کی آزاد مرضی کی بجائے حکومتی جبر کے تحت کرائی گئی…… یوں اس وقت کے ووٹ کی حرمت پامال ہو کر رہ گئی…… حضرت حسینؓ کے لیے حکمران وقت کے بار بار کے تقاضوں اور ترغیبات کے باوجود ایسی بیعت کی توثیق کرنا مشکل ہو گیا تھا…… ان کے لئے نانا کے وجود میں لائے ہوئے اور قائم کردہ اس دینی ریاستی نظام پر ضرب کاری کا لگایا جانا ناقابل برداشت تھا اس لئے انہوں نے اس عالم میں کہ لوگوں پر یزید کی ناجائز حکمرانی کی ہیبت طاری تھی پہلے کنبے کے افراد کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ سے کوفہ تک کا لمبا سفر اختیار کیا…… یہ سب کھلی کارروائی تھی کسی قسم کی خفیہ یا زیرزمین سرگرمی نہیں تھی…… انہوں نے چونکہ سرعام اور بار بار کے مطالبے کے باوجود یزید کے ہاتھ پر بیعت کرنے اور ناجائز غیرآئینی حکومت کے آگے سرتسلیم خم کرنے سے انکار کر دیا تھا جو وقت کی اشرافیہ کے طرز عمل کے خلاف تھا…… اس لئے اس عہد کے کئی داناؤں نے سمجھایا آپ اتنا بڑا خطرہ مول لینے کی پوزیشن میں نہیں دمشق کے دربار کی جانب سے اسے خروج (بغاوت) پر محمول کیا جائے گا…… آپ کی اتنی بڑی قربانی کو قدرومنزلت کی نگاہ سے کوئی دیکھنے والا نظر نہیں آتا اور کم لوگوں میں آپ کی خاندانی تقدیس کی پروا باقی رہ گئی ہے…… اس عالم میں اپنی اور گھر کی خواتین و بچوں کی زندگیوں کو کسی بڑے خطرات سے دوچار نہ کیجئے لیکن حضرت حسینؓ کا جیسا کہ کتبِ تاریخ گواہ ہیں ایک ہی جواب تھا میں ایک ناجائز حکمران کے ہاتھ پر بیعت کر کے اسے اپنے نانا کی عظیم الشان وراثت پر قابض نہیں ہونے دوں گا…… مدینہ سے روانگی کے وقت انہیں اہلِ کوفہ سے توقع تھی اور ان کی جانب سے موصول ہونے والے کئی خطوط اس کے گواہ بھی تھے کہ وہ قافلہ حسینی کی عملی حمایت اور کوفہ میں ان کی آمد کی دل و جان سے استقبال کر کے ان کی قوت میں خاطر خواہ اضافہ کر دیں گے لیکن وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا سب نے منہ پھیر لیا ہے…… اس حالت میں جناب حسین کہے قافلے کو یزیدی فوج نے گھیرے میں لے کر بے دردی کے ساتھ ان کے قتل کا سامان کیا…… یوں جو کچھ ہوا ہماری قوم کا بچہ بچہ اس سے واقف ہے اور اسی المیہ عظیم کی ہر سال کی مانند ان دنوں بھی ہم پورے روایتی طریقے سے یاد منا رہے ہیں ……

مگر فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے نواسہ رسول کو خراج تحسین پیش کرنے کا کیا یہی طریقہ ہمارے پاس باقی رہ گیا ہے جس مقصد کی خاطر انہوں نے اتنی بڑی اور تاریخی قربانی دی کیا ملتے جلتے حالات کے اندر اس کی تکمیل  ہماری ذمہ داری نہیں ہے…… پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ریاست مدینہ کے قیام کے بعد دوسری نظریاتی ریاست اس ملک کی شکل میں وجود میں لائی گئی…… قائداعظمؒ اس کے بانی تھے اور علامہ اقبالؒ اس کے تصور کے خالق…… علامہ سوشل جمہوریت کے بہت بڑے قائل تھے ان کے لیکچروں اور فارسی و اردو شاعری میں یا جو خطوط علامہ مرحوم نے بانی پاکستان کے نام لکھے یہاں تک کہ خطبہ الٰہ آباد جسے تصور پاکستان کی اثاثی دستاویز کہا جاتا ہے کہیں اس بات کا اشارہ نہیں پایا جاتا کہ نئی اور متوقع ریاست میں عوامی کی بجائے عسکری طاقت کے بل بوتے پر کسی کی حکمرانی کو جائز سمجھا جائے گا ان کے بعد بانیِ پاکستان محمد علی جناح نے مسلمانوں کے لئے آزاد اور علیحدہ مملکت کے حصول کی خاطر اپنی کامیاب جدوجہد کے دوران کسی مقام پر بھی خالصتاً جمہوری اصولوں کے علاوہ جبر اور تسلط کے کسی اور طریقہ کار کو اختیار کرنے کا سوچا بھی نہیں تھا نہ اپنی قیادت اور جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کے بارے میں ایسا کوئی تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ مسلمانوں کی کوئی عسکری قوت بھی ان کی مددگار بن کر قیام مملکت کے مشن کو نتیجہ خیز بنا سکتی ہے ان کا تمام تر یقین اپنے نصب العین کی سچائی اور برصغیر کے مسلمان عوام کی جمہوری طاقت پر انحصار کئے ہوئے تھا…… 1940 کا قراردادِ پاکستان منظور کرنے والا لاہور کا جلسہ ہو یا 1945-46 کے انتخابات ہوں جس میں مسلمانانِ ہند کی بھاری اکثریت نے ووٹ دیا تھا…… اس تمام تر جاں گسل جدوجہد کے دوران جانوں کی قربانیاں بھی دی گئیں جیلیں بھی کاٹی گئیں مخالفین کے طعنے بھی برداشت کئے گئے لیکن جو بھی راستہ اختیار کیا اس میں کسی قسم کی خفیہ یا زیرزمین سرگرمی کا نشان نہیں ملتا یہ کھلے میدان کی لڑائی تھی جس میں قائداعظمؒ نے مسلمان عوام کی بھاری اکثریت کے علاوہ علماء کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی…… مولانا شبیر احمد عثمانی جیسی جلیل القدر علمی شخصیت نے ساتھ دینے کا اعلان کیا…… بیوروکریسی یا فائنیشل سروسز میں چودھری محمد علی مرحوم اور سٹیٹ بنک آف پاکستان کے پہلے گورنر زاہد حسین جیسے اپنے شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد نے دست تعاون بڑھایا لیکن تحریک پاکستان کے تمام سالوں کے دوران ہمیں ایک موقع پر بھی کسی حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی جرنل یا آفیسر کا براہ راست یا بالواسطہ کردار نظر نہیں آیا نہ قائد اس کی ضرورت محسوس کرتے تھے…… مملکت خداداد کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے انہوں نے جو حلف اٹھایا اس میں مرحوم نے صاف الفاظ میں عہد کیا کہ وہ پاکستان کے آئین کی جو ابھی بنا نہیں تھا پیروی کو فرض اولین قرار دیں گے…… اپنی وفات سے چند ماہ پہلے کوئٹہ میں سینئر افسروں کی ایک تربیت گاہ سے خطاب کرتے ہوئے سوال و جواب کے سیشن کے دوران قائد نے بھانپنے میں دیر نہ لگائی کہ ان افسروں کی سوچ کا زاویہ نظر کیا ہے…… باہر آ کے انہوں نے صاف لفظوں میں بیان کیا کہ ہمارے افسروں کو آئین و جمہوریت کے لوازمات سے آگاہ کرنا ازحد ضروری ہو گیا ہے تاکہ وہ اس حقیقت کا ادراک کر لیں کہ ان کا فریضہ ملک کی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے نا کہ ریاستی امور میں مداخلت کرنا…… مگر موصوف کے آنکھیں بند کر لینے اور لیاقت علی کے قتل کے بعد ہمارا ملک اور قوم مارشل لاؤں کے جس اندھے گڑھے میں جا گرا ہے اور اب تک جوہری لحاظ سے جس غیرآئینی حکمرانی کے زیرسایہ ہمیں سرنیہوڑا کر زندہ رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور اس عالم میں ہم حضرت حسینؓ کی یاد میں بے حال ہوئے جا رہے ہیں مگر ان کے اصولوں اور طرزعمل کو فراموش کر دیتے ہیں …… ریاست مدینہ کا نام لیتے نہیں تھکتے…… اس صورت حال اور کھلی و پس پردہ غیرآئینی حکمرانی کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو طنزو تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے…… کیا واقعہ کربلا کے المیے کی یادیں ہم سے اسی طرز عمل کا تقاضا کرتی ہیں …… مجھے یاد ہے 1961 میں جب پاکستان پہلے مارشل لاء کی زد میں تھا مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ٹیمپل روڈ لاہور پر ایک شیعہ لیڈر محمد علی زیدی کی قیام گاہ پر مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا شیعہ اور سنّی مسلمان یادِ حسین میں تو پیچھے نہیں رہتے لیکن آج اگر حضرت حسینؓ اسی محفل میں آ کر مسلمانوں سے مطالبہ کریں آؤ میرے ساتھ مل کر ایک غیرآئینی حکمرانی کے خلاف نکل کھڑے ہو جاؤ تو مجھے یقین ہے آپ میں سے دو آدمی بھی ڈر اور خوف کے مارے ساتھ دینے والے نہیں ہوں گے…… میں ایک عام سا نوجوان اس محفل میں موجود تھا اور یہ میرے دیکھنے کی بات ہے پوری کی پوری مجلس پر جس کے اندر بعض جیّد علماء بھی موجود تھے عجب سی خاموشی چھا گئی، بعد میں کچھ اور علماء نے بھی محفل کو گرمایا لیکن کسی ایک کو مولانا مودودی کے اٹھائے گئے نقطے کی جانب اشارہ کرنے کی ہمت نہ ہوئی…… آج بھی جب ہم ہر سال کی مانند عشرہ محرم کی تقریبات منا رہے ہیں ہمارے ملک کے نظام پر جبر اور تشدد کی فضا چھائی ہے کم لوگوں کو کھل کر بات کرنے کا یارا ہے……