اشرف غنی مستعفی ، ملک چھوڑ دیا ، طالبان نے افغان صدارتی محل کا کنٹرول سنبھال لیا

اشرف غنی مستعفی ، ملک چھوڑ دیا ، طالبان نے افغان صدارتی محل کا کنٹرول سنبھال لیا

کابل : طالبان افغانستان کے تمام شہروں پر قبضے کے بعد اب دار الحکومت کابل میں بھی داخل ہوگئے ہیں۔ افغان وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ کابل پر حملہ نہیں ہوگا اقتدار پر امن طور پر منتقل کیا جائے گا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے استعفیٰ دے دیا ہے۔افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ اشرف غنی نے افغانستان چھوڑ دیا ہےاور تاجکستان پہنچ گئے ہیں۔جس کے بعد طالبان صدارتی محل میں داخل ہوگئے ہیں اور محل کا کنٹرول سنبھال لیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کے استعفے کے بعد عبوری حکومت قائم ہوگی ۔ کابل کے صدارتی محل میں اقتدار منتقلی کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔ طالبان اور افغان حکومت میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔ 

طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ثالثی افغان مصالحت کار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کر رہے ہیں۔ 

دوسری طرف قائم مقام افغان وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ کابل پر حملہ نہیں ہوگا، معاہدہ طے پاگیا۔ اقتدار پر امن طور پر منتقل کیا جائے گا۔ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔ 

15:48 

طالبان کے کابل میں داخلے پر عالمی ردعمل

پاکستان میں دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے  کہا ہے کہ ’ہمیں افغانستان میں بگڑتی صورتحال پر تشویش ہے۔ ہم نے تاحال سفارتخانہ بند کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’علاقے میں لڑائی اور عدم استحکام آج نہیں تو کل یورپ اور پھر آسٹریلیا میں بھی داخل ہوسکتا ہے۔یورپی یونین کے کمشنر نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’اب وقت گزر ہوچکا ہے کہ ہم یورپ میں پناہ گزین اور پناہ لینے کے حوالے سے قوانین میں رد و بدل کریں۔‘

15:52

پی آئی اے کے 2 جہاز کابل ایئرپورٹ پر پھنس گئے

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن بند ہوگیا ہے۔ پی آئی اے کے دو طیارے ایئرپورٹ پر پھنسے ہوئے ہیںْ پی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کو دو امریکی ہیلی کاپٹرز نے محاصرہ کیا ہوا تھا۔ امریکی جہاز کی لینڈنگ کی وجہ سے ایئرپورٹ بند کیا گیا۔ پی آئی اے کے دو طیارے کو اسی وجہ سے اڑان کی اجازت نہ ملی۔ 

15:55

غیرملکی افراد اپنی خواہش پر ملک چھوڑ سکتے ہیں: طالبان

طالبان حکام نے کہا ہے کہ کابل طالبان کے گھیرے میں ہے مگر ایئر پورٹ کو کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ غیر ملکی افراد کو ملک چھوڑنے کی اجازت ہے یا آئندہ دنوں میں وہ اپنی موجودگی کا اندراج طالبان انتظامیہ کے ساتھ کرا سکتے ہیں۔

طالبان اہلکار نے بتایا ہے کہ کابل میں ہسپتالوں اور ایمرجنسی سروسز کو کام کرنے سے نہیں روکا جائے گا۔

16:06

غنی اقتدار چھوڑنے کیلئے تیار، علی احمد جلالی نئی عبوری حکومت کے سربراہ

افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ عبدالستار میرز کوال کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

قائم مقام افغان وزیر داخلہ نے بتایا کہ معاہدے کے تحت عبوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی پرامن ماحول میں ہو گی۔

دوسری جانب افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان کو اقتدار کی منتقلی کے لیے افغان صدارتی محل میں مذاکرات جاری ہیں جس میں عبداللہ عبداللہ ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

افغان میڈیا کے مطابق علی احمد جلالی کو نئی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔

16:10

ملا برادر بھی کابل پہنچ گئے

ذرائع افغان وازارت داخلہ کا کہنا ہے کہ طالبان کے اہم لیڈر ملا برادر  قطر سے کابل پہنچ گئے ہیں جبکہ افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ طالبان کے مذاکرات صدارتی محل میں جاری ہیں۔

16:12

برطانوی پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس 

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے برطانوی پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس منعقد کرے۔

برطانوی وزیر اعظم کے دفتر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ملاقات کی تاریخ اور وقت ابھی طے نہیں کیا گیا ہے۔

16:15

امریکی سفارتخانے سے دھواں نکلتے دیکھا گیا

ذرائع کا بتانا ہے کہ  امریکی سفارت خانے کی حساس دستاویزات کو جلا دیا گیا ہے اور سفارت خانے سے دھواں نکلتے بھی دیکھا گیا تھا۔

16:17

یورپی یونین کا سٹاف نامعلوم مقام پر منتقل

نیٹو عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اسٹاف کے کئی ارکان کابل میں نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے ہیں جبکہ امریکی عہدیدار کا بتانا ہے کہ امریکی سفارت خانے کا 50 افراد سے بھی کم عملہ کابل میں موجود ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ آج صبح کچھ ہیلی کاپٹروں کو امریکی سفارتخانے کی جانب آتے دیکھا گیا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا نے اپنا سفارتی عملہ وہاں سے نکال لیا ہے۔

16:20

سب سے بڑی جیل پربھی طالبان کا کنٹرول

ذرائع افغان وزارت داخلہ کے مطابق طالبان نے کابل کی سب سے بڑی پل چرخی جیل کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور پل چرخی جیل سے اپنے ساتھیوں کو نکال رہے ہیں۔

ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں بتایا کہ پل چرخی جیل سے پہلے طالبان نے بگرام ائیر بیس کی سب سے اہم جیل پر بھی قبضہ کیا، بگرام ائیر بیس میں موجود تمام قیدیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

16:41

اب کوئی افغان مہاجر نہ آئے: شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملتان میں نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں بدامنی اور خون خرابہ نہیں چاہتا۔ مستقبل کا فیصلہ افغان عوام نے کرنا ہے۔ افغانستان میں ہمارا کوئی فیورٹ نہیں۔ لاکھوں افغان مہاجر پہلے ہی ہمارے پاس ہیں۔ اب کوئی اضافی مہاجر نہ آئے۔

 16:45

پی آئی اے کے طیاروں کو اڑان بھرنے کی اجازت

ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ  افغان حکام نے پی آئی اے کے دو طیاروں کو اڑان بھرنے کی اجازت دے دی ہے۔ بوئنگ777 کچھ دیر میں افغانستان سے روانہ ہوجائے گا۔ 

17:04

علی احمد جلالی کو عبوری سربراہ تسلیم نہیں کریں گے: طالبان

طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ علی احمد جلالی کو عبوری سربراہ تسلیم نہیں کریں گے ۔ علی جلالی کو قاتل اور مجرم سمجھتے ہیں ۔ طالبان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔

17:53

بھارتی طیارہ اشرف غنی کے مشیروں کو لینے پہنچ گیا

امریکی میڈیا کے مطابق افغان حکومت کے اعلیٰ عہدیدار کابل ایئرپورٹ پر موجود ہیں ۔ اشرف غنی کے چند مشیر اور دیگر عہدیدار وی آئی پی لاؤنج پہنچ چکے ہیں۔ ایئر انڈیا کی پرواز آج کابل ایئرپورٹ پہنچی ہے۔ 

طالبان  کی برق رفتار پیش  قدمی پر ایک نظر

 اپریل: امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا کہ امریکی فوجی مئی سے لے کر 11 ستمبر کے دورانیے میں افغانستان سے نکل جائیں گے، جس سے امریکہ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔

مئی: طالبان نے جنوبی صوبہ ہلمند میں افغان فوج پر ایک بڑا حملہ شروع کیا اور دوسرے صوبوں میں بھی حملہ کیا۔

جون: افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی کا کہنا تھا کہ طالبان نے 370 اضلاع میں سے 50 سے زیادہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ طالبان نے جنوب میں اپنے روایتی گڑھوں سے دور شمال میں حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔

21 جولائی: ایک سینئر امریکی جنرل کے مطابق طالبان ملک کے تقریباً نصف اضلاع پر قابض ہیں۔

6 اگست: عسکریت پسندوں نے جنوب میں زرنج پر قبضہ کیا، جو کہ ایک سال میں ان کے قبضے میں آنے والا پہلا صوبائی دارالحکومت ہے۔

13 اگست: ایک دن میں طالبان نے مزید چار صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا، جن میں ملک کا دوسرا شہر قندھار بھی شامل ہے۔

14 اگست: طالبان نے شمالی شہر مزار شریف پر قبضہ کر لیا۔

15 اگست: طالبان نے بغیر کسی لڑائی کے مشرقی شہر جلال آباد پر قبضہ کر لیا اور کابل کو گھیر لیا۔