نفرتوں کے 75 سال اور حقیقی آزادی مارچ۔۔۔

نفرتوں کے 75 سال اور حقیقی آزادی مارچ۔۔۔

پاکستان کو بنے 75 سال ہونے کو ہیں لیکن روز اول سے یہ اسٹیبلشمنٹ کے سانپ سیڑھی کے کھیل کا تختہ مشق بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے اس کے مختلف طبقات کے درمیان جو شے پنپ سکی وہ نفرت تھی۔ یقینا اسٹیبلشمنٹ کا باوا آدم ہی نرالا ہے اور اسے جمہوری حکومت کے علاوہ اپنی کٹھ پتلی حکومتیں بھی گوارا نہیں ہوتیں اور جو ان کی راہ میں چٹان بن کر کھڑا ہو اسے صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں سوائے اکبر بگتی کے سب کا مقتل پنڈی ہی ٹھہرا جس سے صوبوں میں نفرت بڑھی۔ مقتولین کی فہرست میں سرفہرست نام قائداعظم کے دیرینہ ساتھی خان لیاقت علی خان کا آتا ہے جن کی مقتل گاہ بعد ازاں ان کے نام سے موسوم لیاقت باغ ٹھہرا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بھی راولپنڈی کی جیل میں پھانسی دی گئی اور پھر ان کی بیٹی شہید بے نظیر بھٹو کی مقتل گاہ بھی پنڈی کا لیاقت باغ ہی ٹھہرا۔ اتفاق سے لیاقت علی خان کے سوا باقی سارے قتل فوجی ادوار میں ہوئے۔ اکبر بگتی کے لیے کوئٹہ کے سنگلاخ پہاڑ چنے گئے اور ایک آمر مشرف نے انہیں اپنی انا کی بھینٹ چڑھایا۔ اس کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ مختلف ادوار میں سیاسی جماعتوں سے سانپ سیڑھی کا کھیل کھیلتی رہی اور یقیناً اس میں ساری سیاسی جماعتیں بھی ایک دوسرے کے خلاف ان کا آلہ کار بنتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط نہ ہو سکیں۔ آمروں نے جب چاہا مولی گاجر کی طرح جمہوری حکومتوں کو اکھاڑ پھینکا اور سیاسی مخالفت میں دشمنی کی حد تک جانے والی سیاسی پارٹیاں بھی تالیاں بجانے والوں میں شامل تھیں جس کا فائدہ اسٹیبلشمنٹ نے اٹھایا۔

دیکھا گیا ہے کہ جب بھی اسٹیبلشمنٹ کے ’’بے بی‘‘ کی آنکھیں کھلیں تو اسے اپنی آنکھوں سے دکھائی دینے والی دنیا اس سے بالکل مختلف تھی جو اسٹیبلشمنٹ اسے دکھاتی رہی تھی۔ اس پر ’’بے بی‘‘ نے جب حکومتی معاملات اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق چلانا شروع کیے تو اسٹیبلشمنٹ بُرا مان گئی اور اسے نشان عبرت بنا دیا۔ ایسے کرداروں کی فہرست بہت طویل ہے لیکن اگر ذوالفقار علی بھٹو سے شروع کریں تو یہ اس کا پہلا نشانہ بنے، پھر محمد خان جونیجو اور نواز شریف بھی نشانہ بننے والوں میں شامل ہیں۔ اب عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے شانے پر ہیں کیونکہ انہوں نے بھی ذوالفقار علی بھٹو شہید کی طرح امریکہ کو ’’ناں‘‘ کہنے کی جرأت کر دی تھی۔

تمام تر مخالفانہ مہم کے باوجود عمران خان نے سیاست میں ایک نئی طرح کی بنیاد رکھی اور اپنا مقام بنایا۔ عمران خان کا سب سے بڑا سیاسی کارنامہ ملکی سیاست میں دو جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی اجارہ داری توڑنا تھا۔ یاد رہے کہ مجیب الرحمان نے بھی مشرقی پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری توڑی تھی گو کہ اسے تسلیم نہ کیا گیا اور نتیجتاً پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔ اسٹیبلشمنٹ، میڈیا اور 15 رکنی اتحادی حکومت کی تمام تر مخالفت کے باوجود بھی عمران خان نے 13 اور 14 اگست کے لاہور کے کامیاب ترین جلسے کا انعقاد کر کے ثابت کر دیا کہ عوام تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کا معنوی مطلب ہی عوام کی سوچ اور جذبات کے خلاف اور حقیقت کے برعکس اپنا مترا بنانا اور عوام پر ٹھونسنا ہوتا ہے جو کہ اکثر ناکامی سے دوچار ہوتا ہے۔ اپنے بیانیے کو مقبول بنانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ اکثر بھونڈی حرکتیں کرتی ہے جس طرح کل 75ویں یوم آزادی پر عمران خان کے طے شدہ پروگرام کے مقابلے میں رات عین دس بجے وزیر اعظم شہباز شریف کی بے تکی، بے ڈھنگی، بے مقصد اور بے اثر تقریر اچانک قوم پر مسلط کر دی گئی۔ گو کہ وزیر اعظم نے ایک بار پھر میثاق معیشت کی پیشکش کر دی لیکن ان کے لشکر کے میمنے میسرے اور پیادے عمران خان کے خلاف اسی طرح زہر اگل رہے ہیں،

 سونے پر سہاگہ یہ کہ اسلام آباد میں عین اس وقت ایک مذہبی جماعت کی بھی تقریب اور تقریر رکھ دی گئی۔ لیکن دونوں کوششیں رائیگاں گئیں۔ جب نیتوں میں فتور ہو تو اس قسم کی پیشکشیں محض سیاسی شعبدہ بازی ہوتی ہے۔اب لگ رہا کہ شاید چودہ رکنی حکومتی اتحاد میں ایک اور کا اضافہ ہو جائے کیونکہ رانا ثنااللہ بغض عمران میں اسی مذہبی جماعت کی پشت پر ہیں جس نے اسلام آباد پر چڑھائی کا پروگرام بنایا تھا۔ لیکن مولانا فضل الرحمان اس جماعت سے مسلکی اختلاف کی وجہ سے اس کی شمولیت کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ عمران خان نے جب اسلام آباد جلسے کا اعلان کیا تو وزیر داخلہ نے اسی دن اس جماعت کو بھی اسلام آباد جلسے کی اجازت دے کر ممکنہ تصادم کی کوشش کی جسے عمران خان نے اپنا جلسہ لاہور منتقل کر کے یہ سازش بھی ناکام بنا دی۔

اسٹیبلشمنٹ نے اسی طرح کی مہم ملٹری ڈکٹیٹر ضیاالحق کی طرف سے عوام کو شعور دینے والے شہید ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف بھی چلائی تھی لیکن عوام نے ثابت کیا کہ وہ بھٹو کے ساتھ ہے اس کے باوجود اسٹیبلشمنٹ بھٹو کے خلاف امریکی ایجنڈے کے مطابق عمل پیرا رہی۔ یاد رہے کہ ہنری کسنجر نے بھٹو کو ایٹمی پروگرام رول بیک نہ کرنے پر نشان عبرت بنانے کی دھمکی دی لیکن بھٹو ڈٹا رہا اور کہا کہ مجھے میرا انجام معلوم ہے لیکن پاکستان کے مستقبل اور دفاع پر سمجھوتا نہیں کر سکتا۔ بالآخر امریکی ایجنٹ ضیاالحق نے بھٹو کو ملکی مفاد میں نہ کہنے کی پاداش پر ایک جعلی مقدمے میں سولی پر لٹکا دیا لیکن بھٹو مرا نہیں بلکہ آج تک زندہ ہے اور ایک جماعت اس کے نام پرووٹ بٹور رہی ہے۔ عمران خان کو بھی روس اور یوکرائن کے مسئلے پر امریکی ڈکٹیشن کے بجائے پاکستان کے مفاد کو ترجیح دینے پر عبرت کا نشان بننے کی دھمکی دی گئی۔ پیپلز پارٹی کے علاوہ تمام وہ جماعتیں یا لیڈران جو اس وقت ضیاالحق کے مارشل لا کے ساتھ تھے وہی آج بھی عمران خان کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار ہیں۔ خیر راتوں رات حکومتی اتحادیوں کو توڑا گیا، پی ٹی آئی میں سے لوٹوں کو تشکیل دیا گیا اور سارا وزن اپوزیشن کے پلڑے میں ڈال دیا گیا۔ نتیجتاً پارلیمنٹ کی واحد اکثریتی جماعت کی جگہ ایک اقلیتی جماعت مسلم لیگ ن کا وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ یہ 80 کی دہائی ہے اور نہ عمران خان کے خلاف کوئی مقدمہ ہے جسے استعمال کر کے اسے بھٹو کی طرح نشان عبرت بنایا جا سکے۔ عمران خان اور ان کی جماعت کے خلاف حکومتی مشینری کو استعمال کر کے تکنیکی بنیادوں پر سیاست سے باہر کرنے کی دوڑ شروع ہو چکی ہے جس کے لیے الیکشن کمیشن سے زیادہ چیف الیکشن کمشنر کو فارن فنڈنگ و توشہ خانہ کیس میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان دونوں کیسز میں صرف عمران خان اور ان کی جماعت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان بھی توشہ خانے سے محظوظ ہوتے رہے ہیں اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق ان کی جماعتوں کے فارن فنڈنگ کے کیسز بھی الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہیں لیکن ان کو ہوا بھی نہیں لگنے دی جا رہی اور صرف تحریک انصاف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن باقاعدہ پارٹی ہے وگرنہ انصاف کے تقاضوں کے پیش نظر ایک ہی نوعیت کے تمام مقدمات کا فیصلہ اکٹھے ہونا چاہیے تھا۔

عمران خان کی طرف سے بیک وقت 9 نشستوں سے انتخابات لڑنے کے فیصلے نے بھی حکومتی اتحاد اور اسٹیبلشمنٹ میں کھلبلی مچا دی ہے اور شنید ہے کہ عمران خان کا میدان میں مقابلہ کرنے کے بجائے تکنیکی حربے استعمال کر کے بذریعہ الیکشن کمیشن عمران خان کو الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ مناسب ہوتا کہ کوئی ایک امیدوار حکومتی اتحادیوں سے عمران خان کے مقابلے میں آ جاتا مولانا فضل الرحمان فارغ بیٹھے ہیں وہی میدان میں آ جاتے لیکن کوئی بھی رسک لے کر آئندہ عام انتخابات میں اپنے لیے رستے بند نہیں کر سکتا۔

آخر یہ خوف اور دباؤ کیوں؟ عمران خان کا جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا نواز شریف کیخلاف مقدمات ختم کرنے کیلئے ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے لیکن میں کسی صورت کوئی ڈیل نہیں کروں گا اور اس امپورٹڈ حکومت کے خاتمہ اور الیکشن ہونے تک یہ جدو جہد جاری رہے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ تکرار یہ لڑائی یہ مخالفت آخر کب تک؟ تمام سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کا نشانہ بن چکی ہیں اب بھی وقت ہے کہ اکٹھے ہو کر اختلافات پر بات کر کے حقیقی جمہوریت کا روڈ میپ بنا لیں۔ تمام حقیقی سیاسی جماعتوں کا حقیقی آزادی مارچ تب ہو گا جب تمام سیاسی قوتیں اسٹیبلشمنٹ کیخلاف نیک نیتی سے ’’میثاق جمہوریت‘‘ کی بنیاد رکھیں گی۔ ورنہ یہی سانپ سیڑھی کا کھیل جس میں کبھی بھٹو، شریف اور عمران خان نشانہ بنتے رہیں گے اور حقیقی جمہوریت ایک خواب ہی رہے گا۔

کالم کے بارے میں اپنی رائے 03004741474 پر وٹس ایپ کریں۔