ہو گر بس میں تو لکھیں کتابِ زندگانی

ہو گر بس میں تو لکھیں کتابِ زندگانی

آگ، ہوا، پانی اور مٹی ان چار عناصر کے ساتھ ہی انسان کا جسم بنایا گیا۔ یہ قدرت کے وہ انمول خزانے ہیں جن سے بنی آدم فیض اٹھاتے ہیں۔ ان چار عناصر پر جب غور و فکر شروع کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ چیزیں ہمارے آس پاس ہر جگہ پر موجود ہیں۔ ان چار عناصر کا انسانی زندگی کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ انسان ان کے بغیر کسی صورت زندہ نہیں رہ سکتا۔ ہوا سے کائنات میں موجود تمام حیات کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن ملتی ہے اس کے بغیر کوئی زندہ چیز سانس نہیں لے سکتی۔ ان چار عناصر میں پانی کی اہمیت سب سے زیادہ ہے کیونکہ انسانی جسم کا ستر فیصد پانی ہے۔ پانی آکسیجن اور ہائیڈروجن کا وہ انتہائی اہم مرکب ہے جو اللہ رب العزت کی تخلیق کردہ اس وسیع و عریض کائنات میں ہر ذی روح کے زندہ رہنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ آگ ہمیں حرارت اور روشنی فراہم کرتی ہے۔ آگ میں جل کر ہی کوئلہ ہیرے میں جبکہ سونا کندن میں تبدیل ہوتا ہے۔ زمانہ قدیم میں آگ کی تمازت کے سامنے عاجز ہو کر انسان اس کی پرستش کرنے لگا لیکن اس آگ کے خالق تک نا پہنچ سکا۔ آگ کا نام سنتے ہی بیش بہا خطرات اور وسوسے دل و دماغ میں جنم لینے لگتے ہیں۔ آگ اگر لسانی یا علاقائی بنیادوں پر ہو تو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اگر کسی سیاسی مقاصد کی خاطر ذاتی مفاد کے لیے بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں بھڑکائی گئی آگ ہو جہاں لگ بھگ ڈھائی سو افراد فیکٹری مالک کی جانب سے بھتہ نا ملنے پر زندہ جلا دیے گئے، حصولِ زمین کے لیے سوات کے علاقہ بڈئی میں سیکڑوں گھر اور مساجد کو نذرِ آتش کر دیا گیا اس طرح کے بے حساب واقعات موجود ہیں جن میں یہ آگ کئی گھرانوں کی تباہی اور بربادی کا سبب بنتی ہے۔ آگ ایک کیمیائی عمل ہے، جس میں ایندھن مناسب درجہ حرارت کی موجودگی میں ہوا میں موجود آکسیجن کے ساتھ مل جاتا ہے جس کے نتیجے میں آگ یعنی روشنی، حرارت اور آکسائیڈز پیدا ہوتے ہیں۔ انسان مٹی کا پتلا ہے گویا اس زمین پر زندگی بسر کرنے کے لیے اسی کا پیراہن اپنایا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’’جس نے ہر اس چیز کو جو اس نے بنائی بہترین بنایا اور انسان کی تخلیق مٹی سے شروع کی‘‘۔

بنی آدم اسی زمین پر چلتا ہے اور اس میں لہلہاتے پودے اگاتا ہے۔ انہیں بے حساب خزانوں سے انسان اور حیوانات کی خوراک کا انتظام کیا جاتا ہے۔ مٹی کی تہہ سے ہی ہیرے، جواہرات اور قیمتی پتھر برآمد ہوتے ہیں۔ اسی مٹی سے ہی ہمیں کالا سونا یعنی پٹرول حاصل ہوتا ہے جس سے تمام دنیا کا کاروباری نظام چلتا ہے۔ یہ زمین ہی ہے جس سے انسان کی پہچان جڑی ہے۔ اولادِ آدم زمین کے لیے جان تک لینے اور دینے سے دریغ نہیں کرتے، بڑی بڑی جنگیں اس زمین کی خاطر لڑی گئیں اور بالآخر انسان کا جسدِ خاکی اسی زمین کے دو فٹ نیچے جا کر مٹی میں مٹی ہو گیا۔ اس مادہ پرست دنیا کی بے حسی برداشت کرتے کرتے جب زمین جواب دے جاتی ہے تو زلزلے وجود میں آتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے زمیں بوس عمارتیں خاک نشیں ہو جاتی ہیں۔

زندگی کیا ہے چار عناصر میں ظہور ِ ترتیب

موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا

ہوا سے تمام جانداروں کو آکسیجن حاصل ہوتی ہے اس کے بغیر کوئی زندہ چیز سانس نہیں لے سکتی۔ اسی طرح پانی کے بغیر بھی زندہ رہنا ناممکنات میں سے ہے، نا ہی ہمارے نزدیک آگ اور مٹی کی اہمیت و ضرورت کم ہو سکتی ہے یہ چاروں قدرت کی ایسی قوتیں ہیں جو بنی آدم کے لیے انتہائی ضروری ہیں اور جن کے ذریعے بیشتر اوقات دنیا کو بے پناہ تباہی و بربادی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ہوا اگر مست ہو جائے اپنی رفتار بے حساب تیز کر دے تو دنیا میں تباہی کو پھیلنے سے کوئی انسان نہیں روک سکتا۔ اسی طرح پانی انسان کا دوست بھی ہے اور دشمن بھی۔ ابنِ آدم کی سائنس کے میدانوں میں دن رات کی جانے والی تمام تر ترقی کے باوجود انسان آج بھی ہوا، پانی، آگ اور مٹی کے سامنے روزِ اول کی طرح ہی لاچار و بے بس ہے لیکن اس کے باوجود انسان ان کے ساتھ کھیلنے سے باز نہیں آتا۔ سانحہ مری مثال ہے گزشتہ برس جمتے پانی کے ساتھ چند لمحے گزارنے کی خواہش میں دیکھتے ہی دیکھتے لوگ برف کی قبروں میں جا سوئے۔ تاریخِ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم سے پہلے بہت سی قوموں پر آگ، ہوا، پانی اور مٹی کو عذابِ الٰہی کی صورت نازل کیا گیا۔ حضرت شعیب ؑ کی قوم کو زلزلے اور آگ کے عذاب نے اس وقت اپنے گھیرے میں لیا جب وہ اپنے گھروں میں آرام کر رہے تھے۔۔ حضرت نوح  ؑ کی نافرمان قوم پر اللہ رب العزت کا عذاب سیلاب کی صورت میں نازل کیا گیا۔ قومِ عاد کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور نا شکری کے باعث سات دن اور سات رات تک لگا تار تیز آندھی کے طوفان نے اپنی لپیٹ میں لیے رکھا یہاں تک کے قوم ِ عاد کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔۔۔

کن فیکون کا حاصل یعنی مٹی، آگ، ہوا اور پانی

پل میں بقا، پل میں فانی مٹی، آگ، ہوا اور پانی