سیاسی بحران، رسہ کشی، گرفتاریاں

سیاسی بحران، رسہ کشی، گرفتاریاں

ملک کے موجودہ حالات خطرے کے نشان تک جا پہنچے۔ ریڈ لائن کراس کر لی جائے تو گند سمیٹنے کے لیے کچھ فیصلے ناگزیر ہو جاتے ہیں سو کر لیے گئے ہیں ملک میں کوئی اصولی سیاست نہیں۔ دھونس، دھمکی، دھاندلی، الزامات، جوابی الزامات اور گالم گلوچ کا نام جمہوریت رکھ دیا گیا ہے۔ اقتدار کی خواہش اخلاقیات پر غالب آ گئی ہے۔ سیاسی جدوجہد کو جہاد کا نام دے دیا گیا۔ محرم الحرام میں بھی نواسہ رسولؐ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بجائے سیاسی یزیدوں کا ذکر ہوتا رہا۔ 14 اگست آزادی کی 75 ویں ڈائمنڈ جوبلی تقریبات بھی سیاسی لڑائیوں کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ اس کے بجائے حقیقی آزادی کا بیانیہ دہرایا جا رہا ہے۔ قبر اور حشر میں کپتان کی حمایت کیوں نہ کی۔ جیسے سوالات کا اضافہ کر دیا گیا۔ آسمانوں پر فیصلے تو ہونے تھے تحریک عدم اعتماد کے بعد گزشتہ مہینوں کے دوران اداروں کے خلاف جو ہرزہ سرائی کی گئی ہیلی کاپٹر کے حادثہ میں شہداء وطن کو جس طرح نشانہ بنایا گیا حتیٰ کہ ٹی وی چینلوں پر بغاوت کا سکرپٹ بھی دہرا دیا گیا۔ چنانچہ فرشتوں نے بھی شکنجہ کسنے کا فیصلہ کر لیا با خبر حلقے بتاتے ہیں کہ تماشا کرنے والے اسی لیے آپے سے باہر ہوتے دکھائی دیتے ہیں شہدا وطن کے خلاف ہرزہ سرائی اور حقیقی آزادی کے نعرے، ذمہ داروں نے خبردار کر دیا تھا شہیدوں کو بھلاتے جا رہے ہو یاد رکھ لینا کہ ان کے خون سے ہو کر ہی آزادی نکلتی ہے۔ مگر سر پر اقتدار کا بھوت سوار ہو تو کچھ نظر نہیں آتا کسی نے کہا تھا ’’تلچھٹ جو پی رہا تھا ہوس دیکھیے کہ وہ اب کہہ رہا ہے مجھ کو تو مے خانہ چاہیے‘‘ میخانہ کی آرزو کیسے پوری ہو۔ فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کے بعد سارے خواب ادھورے رہ گئے۔ پی ٹی آئی پر پابندی کا خطرہ منڈلانے لگا اکاؤنٹس ظاہر نہ کرنے اور توشہ خانہ سے قیمتی گھڑی اور دیگر تحائف فروخت کر کے دو تین سال تک مالیت ڈیکلیئر نہ کرنے پر 62 ایف ون کے تحت نا اہلی کی تلوار لٹکنے لگی۔ آئین کی اسی شق کے تحت نواز شریف کو تا حیات نا اہلی کی سزا دی گئی تھی وصولی کے قابل رقم (جو وصول نہ کی گئی) ڈیکلیئر نہیں کی اس لیے نواز شریف اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہاں کپتان نے بہتی گنگا میں ہاتھ ہی نہیں دھوئے پورا اشنان کیا۔ غسل صحت فرمایا کیا یہی شق لاگو ہو گی؟ یہی غم کھائے جاتا ہے کہ ’’بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے‘‘ نا اہلی کا فیصلہ نا گزیر ورنہ نواز شریف بھی بری۔ الیکشن کمیشن کا فیصلہ گلے کی ہڈی بن گیا نگلے بنے نہ اگلے نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی حکومت ریفرنس تیار کر رہی ہے۔ دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے۔ ن لیگی رہنما حنیف عباسی کے مطابق انہوں نے 2016ء میں سپریم کورٹ میں کپتان کی نا اہلی کی اسی بنیاد پر درخواست دی تھی جس پر انہیں الیکشن کمیشن سے رجوع کا حکم دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تو الیکشن کمیشن کا فیصلہ آ گیا اب ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرمائیں گے کیا۔ سیانے اسی کو مائنس ون فارمولے کا نام دے رہے ہیں۔ پارٹی قائم رہے گی بریکٹ میں حقیقی کا اضافہ کر دیا جائے گا پارٹی لیڈر غائب لیڈری یا قیادت کے لیے پانچ لیڈر آگے بڑھنے کو بے تاب قریبی حلقے کہتے ہیں کہ پندرہ بیس ارکان قومی اسمبلی میں موجود رہیں گے۔ اس طرح 

گند سمیٹ لیا جائے گا۔ اس طرح اداروں سے ٹکراؤ کو اپنی سیاست کی بنیاد بنانے والوں کی بیخ کنی کی جائے گی۔ ریفرنس دائر کر دیے گئے تو بال سپریم کورٹ کی کورٹ میں ہو گی۔ پوری قوم حسن کرشمہ ساز کی منتظر رہے گی۔ مگر وہ جو ایمان لے آئے ان کا ابھی سے کہنا ہے کہ کچھ نہیں ہو گا۔ فیاض الحسن چوہان (جو تیسری چوتھی بار حکومت پنجاب اور پارٹی کے ترجمان بن گئے ہیں) نے کہا کہ کوئی مائی کا لال کپتان کے فنڈز کا آڈٹ نہیں کر سکتا۔ فواد چودھری کا کہنا تھا کہ نا اہل کرانا کسی کے بس کی بات نہیں۔ شیخ رشید پھر گرجے برسے عمران خان کی گرفتاری خونی سیاست کا آغاز ہو گی۔ زمینی طاقتیں کپتان آسمانی طاقتیں حکومت کے ساتھ ہیں آئندہ 45 دن اہم ہیں۔ اس دوران کپتان نے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے اور اداروں سے ٹکراؤ کا زور کم کرنے کے لیے جلد بلکہ فوری انتخابات کا شور شروع کر دیا ہے۔ 25 ستمبر کے ضمنی الیکشن میں 9 سیٹوں سے تن تنہا انتخاب لڑنے کا اعلان بھی کر دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کو فوری انتخابات کے بیانیہ پر حیرت ہوئی کہ ایک طرف کپتان کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر شفاف انتخابات نہیں کرا سکتے دوسری طرف عام انتخابات کا مطالبہ چہ معنی دارد پہلے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹائیں یا وہ مستعفیٰ ہو جائیں تب الیکشن کا ڈول ڈالیں جہاں تک چیف الیکشن کمشنر کے مستعفی ہونے کا تعلق ہے اس کا دور دور امکان نہیں انتخابات اگلے سال ہی ہوں گے۔ پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے۔ اسی دوران کپتان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی بنی گالہ کے باہر سے گرفتاری نے حشر بپا کر دیا۔ حالات پہلے کشیدہ تھے اب پیچیدہ ہو گئے سننے والے کانوں اور دیکھنے والی آنکھوں نے کہا کہ شہباز گل نے فوج کیخلاف بغاوت کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ تفتیش کے دوران بقول پولیس کہا کہ میں نے پارٹی کی ہدایت کے مطابق عمل کیا۔ دو روزہ ریمانڈ مسترد ہونے اور اڈیالہ جیل بھیجے جانے پر عدالت سے باہر آ کر کہا کہ فوج میری جان ہے۔ دہرا معیار دو رخی پالیسی اداروں کا تقدس ملحوظ خاطر رہنا چاہیے۔ ڈائن بھی سو گھر چھوڑ دیتی ہے۔ ستم یہ کہ کپتان سمیت کسی لیڈر نے شہباز گل کے بیان کی مذمت نہ کی۔ اغوا، تشدد ان کے ڈرائیور کی گرفتاری پر بیانات آئے البتہ پرویز الٰہی نے برملا کہا کہ اس بیانیہ سے پارٹی کو فائدہ نہیں نقصان ہوا۔ میں نے اس پر شہباز گل کو ڈانٹا۔ شاہ محمود نے محتاط رویہ رکھا کہ الفاظ کا انتخابات احتیاط سے کرنا چاہیے تھا شہباز گل کے کورٹ مارشل پر غور کیا جا رہا ہے۔ تب کیا ہو گا۔ اسی رویہ پر تو اپنے بھی کہنے لگے ہیں کہ خوش قسمت کپتان کی بد قسمتی ہے کہ وہ خود ہی اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔ بہو کے نخرے بھی مقررہ وقت تک برداشت کیے جاتے ہیں لاڈلے وہ رہتے ہیں جو ریڈ لائن کراس نہیں کرتے جبکہ حدود پار کرنے والوں کی سیاست وقت کے ساتھ پگھلنے لگتی ہے اقتدار کے اس حد تک خواہش مندوں کو سوچنا ہو گا کہ چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں، یہی حالات رہے تو اچھے دن لوٹ کر نہیں آئیں گے ویسے بھی سیاسی بد نما منظر بدلتے جا رہے ہیں۔ ہمارے عہد کے مہتاب ڈھلتے جا رہے ہیں۔ امریکی سازش اور قتل کی سازش کے بعد اب کون سا راز اور بیانیہ رہ گیا جسے افشا کرنا باقی ہے امریکی سازش کا شور لیکن کے پی کے میں وزیر اعلیٰ محمود خان کی امریکی سفیر سے عاجزانہ اور دوستانہ ملاقات۔ 36 امریکی گاڑیوں کا تحفہ وصول کیا۔ دروغ برگردن راوی، تجزیہ کاروں کے مطابق پچھلے دروازے سے کھلنے والے کمرے میں امریکی سفیر سے پارٹی کے قائد کی بھی ملاقات ہوئی۔ اندر دوستی باہر لڑائی رونا لکھا گیا ہے روتے ہیں ذمہ داری تو ذمہ داری ہے۔ مختلف سمتوں سے اٹھنے والا طوفان شدت اختیار کر رہا ہے۔ گرفتاریوں کا موسم آ گیا شہدا کے خلاف ہرزہ سرائی پر 75 افراد گرفتار ہو گئے سوشل میڈیا کے 784 اکاؤنٹس میں ادارے کیخلاف توہین آمیز ریمارکس دیے گئے ان میں 24 یا 25 بیرون ملک سے تھے ایک اور خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے کہ اگر شہباز گل نے وعدہ معاف گواہ بننے کی حامی بھر لی تو کیا ہو گا۔ اس خطرے کے باوجود ابھی تک فرنٹ فٹ پر کھیلنے جا رہے ہیں حالانکہ صدر مملکت نے بروقت ملک کو پردیش خطرات کی یہ کہہ کر نشان دہی کی ہے کہ خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ سیاست دانوں کو مل بیٹھ کر حل نکالنا ہو گا سیاستدان افہام و تفہیم پیدا کریں۔ صدر عارف علوی ہر بات کپتان کے مشورے سے کرتے ہیں کیا ان کے اس بیانیے میں قائد کا مشورہ شامل ہے کاش ایسا ہو اگر فی الوقت ایسا ہوا تو ملکی سلامتی اور سیاسی استحکام کے لیے راہ ہموار ہو سکے گی۔