عدالت نے اورنج ٹرین منصوبے کی تکنیکی رپورٹس پر اعتراضات مانگ لیے

عدالت نے اورنج ٹرین منصوبے کی تکنیکی رپورٹس پر اعتراضات مانگ لیے

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 45 ارب روپے کے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے سے متعلق دو متضاد رپورٹس کے خلاف فریقین کو اعتراضات سامنے لانے کا موقع فراہم کردیا۔


چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کیس کی سماعت 27 دسمبر تک ملتوی کرنے سے قبل اعلان کیا کہ ’منصوبے کے حوالے سے دو متضاد رپورٹس سامنے آئی ہیں، جس کے بعد ہم فریقین کو اگر ان رپورٹس پر کوئی اعتراض ہے تو سامنے لانے کے لیے نوٹسز جاری کر رہے ہیں۔‘عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ نے پنجاب حکومت، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (پی ایم ٹی اے) اور نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) کی جانب سے، لاہور ہائی کورٹ کے ثقافتی ورثہ رکھنے والے 11 مقامات کے 200 فٹ اطراف میں تعمیر معطل کرنے کے 19 اگست کے حکم خلاف ایک جیسی، لیکن علیحدہ علیحدہ درخواستوں پر کمیشن مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے یہ حکم سول سوسائٹی کے رکن کامل خان ممتاز کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سنایا تھا۔ثقافتی ورثہ رکھنے والے ان مقامات میں شالامار گارڈنز، گلابی باغ گیٹ وے، بدوھ کا آوا، چَبرجی، زیب النسا کا مقبرہ، لکشمی بلڈنگ، جنرل پوسٹ آفس، ایوان اوقاف، سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کی عمارت، نابھا روڈ کا سینٹ اینڈریوز پریسبیٹرین چرچ اور بابا موج دریا بخاری کا مزار شامل ہیں۔رواں سال 14 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے، نیسپاک کی ماحولیاتی جانچ کی دو رپورٹس کی صداقت کی تصدیق کے لیے Messers TYPSA-Asian Consulting Engineers (Pvt) Ltd اور علم آثار قدیمہ کے ماہر پروفیسر روبن کوننگھم پر مشتمل کمیشن مقرر کیا تھا۔

نیسپاک کی جولائی 2015 اور فروری 2016 میں جاری کی گئی رپورٹس، اینٹی کیوٹیس ایکٹ 1975 اور پنجاب اسپیشل پریمیسز پریزرویشن آرڈیننس 1985 کے تناظر میں پنجاب حکومت پر منحصر تھیں۔پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے نمائندے مخدوم علی خان نے عدالت سے درخواست کی کہ اتھارٹی کو اس افہام و تفہیم کے ساتھ تعمیر کی اجازت دی جائے کہ اگر فیصلہ اس کے خلاف آتا ہے تو عبوری عرصے میں تعمیر کیا گیا اسٹرکچر گرادیا جائے گا۔تاہم سول سوسائٹی اور اظہر صدیقی کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والی عاصمہ جہانگیر نے استدعا کی کہ دو تکنیکی رپورٹس کے حوالے سے اعتراضات داخل کرنے کے لیے مزید وقت دیا جائے۔

پروفیسر روبن کوننگھم نے اپنی رپورٹ میں منصوبے کو1975 کے اینٹی کیوٹیس ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس منصوبے پر عملدرآمد کے دوران اینٹی کیوٹیس ایکٹ کے تحت تحفظ شدہ کم از کم 5 غیر منقولہ آثار قدیمہ کے 200 فٹ کے اندر نئی تعمیر شامل ہے۔‘

انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ ’اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ اینٹی کیوٹیس ایکٹ کی شق 22 اور 23 کے خلاف ہے، جن کے تحت غیر منقولہ آثار قدیمہ کے 200 فٹ کے اندر نئی ترقیاتی تعمیر ممنوع ہے، جبکہ 5 غیر منقولہ آثار قدیمہ کے قریب اتنے ہی فاصلے پر طویل پُل کی طرح کا کوئی اسٹرکچر بھی تعمیر نہیں کیا جاسکتا۔‘

ان کی رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ ’نیسپاک نے جولائی 2015 کی اپنی جانچ رپورٹ میں دو ممکنہ طور پر متاثرہ عمارتوں پر پُل کی تعمیر کے لیے کھڑے کیے جانے والے ستونوں سے پیدا ہونے والی لرزش کے اثرات کو نظر انداز کیا۔‘

ان ممکنہ طور پر متاثرہ عمارتوں میں مغلوں کے زمانے میں بچ جانے والا حوض اور لکشمی بلڈنگ شامل ہیں۔دوسری جانب ٹیپسا لمیٹڈ کی رپورٹ میں اورنج لائن میٹرو ٹرین کی حمایت میں نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’نیسپاک کی رپورٹ اسٹرکچر کے نقطہ نظر سے بظاہر سنجیدہ اور مکمل ہے اور تعمیری اور ٹرین کے آپریشنز کے دونوں مراحل کے دوران یادگاری عمارتوں کی حفاظت اور استحکام دونوں حوالوں سے مطابقت رکھتی ہے۔