حلب سےشہریوں کے انخلا کا معاہدہ تہہ پا گیا

حلب سےشہریوں کے انخلا کا معاہدہ تہہ پا گیا

حلب: شام میں فریقین کی جانب سے جنگ بندی توڑنے کے متضاد دعووں کے بعد بالآخر حلب سے شہریوں کے انخلا کے لیے ایک بار پھر جنگ بندی معاہدہ فعال ہوگیا ہے۔


شام میں باغی رہنماؤں اور حکومت کے فوجی ترجمان عبدالسلام عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ معاہدے پر عمل چند گھنٹوں میں شروع ہو جائے گا۔ معاہدے میں باغیوں کے زیر قبضہ ادلب صوبے کے دو دیہات سے تقریباً 15 ہزار شہریوں کا انخلا بھی شامل ہے، جو پاکستانی وقت کے مطابق آج صبح 9بجے تک شروع ہونے کا امکان ہے۔اس سے پہلے کل جنگ بندی کا معاہدہ شروع ہوتے ہی جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں اور دونوں نے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹہرایا تھا۔ باغیوں کے زیرکنٹرول علاقوں میں درجنوں شہری کل شامی فوج کی گولہ باری اور فضائی حملوں میں مارے جانے کی اطلاع ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ حلب میں باغیوں کے علاقے میں پچاس ہزار سے زیادہ شہری پھنسے ہیں۔ ان علاقوں میں شامی فوج اور اس کے اتحادیوں کی بمباری بہت حد تک بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور غالباً جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔جھڑپوں کی اطلاعت پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے روسی، ترک اور قطری ہم منصب کو فون کیا اور شام میں خون ریزی روکنے اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔ شام کے مسلئے کے حل کے لیے روس، ایران اور ترکی مل بیٹھیں گے اور اس سلسلے میں27 دسمبر کو ماسکو میں بات چیت ہوگی۔