یا ہو کے ایک ارب سے زائد اکاونٹ ہیک ہونے کا انکشاف

یا ہو کے ایک ارب سے زائد اکاونٹ ہیک ہونے کا انکشاف

ویب سائٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صارفین کے اکاونٹ محفوظ کرنے کے اقدامات کر رہا ہے۔اس سے قبل نومبر میں بھی ویب سائٹ کا ڈیٹا چوری کیا گیا۔جس کی دوسرے ممالک سے فرانزک تحقیقات کر ائی گئیں۔تحقیقات اور تفتیش میں یہ سامنے آیا ہے کہ چوری شدہ ڈیٹا 2013میں چرایا گیا۔


صارفین کے اکاو¿نٹ زیادہ محفوظ بنانے کےلیے یا ہو کئی آپشنز پر غور کررہاہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں پولیس اور متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے۔یاہو کا کہنا ہے کہ سنہ 2013 میں ہونے والی ایک ہیکنگ سے کم سے کم ایک ارب صارفین کے اکاو¿نٹس متاثر ہوئے تھے۔انٹرنیٹ جائنٹ یاہو کا کہنا تھا کہ ہیکنگ کا یہ واقعہ سنہ 2014 میں ہونے والی ا±س ہیکنگ سے الگ ہے جس کے دوران ہیکرز کو 50 کروڑ اکاونٹس تک رسائی حاصل ہوئی تھی۔

یاہو کا کہنا ہے کہ اس ہیکنگ کے دوران صارفین کے نام، فون نمبرز، پاسورڈز اور ای میل ایڈریسز لیے گئے تاہم بینک اور ادائیگیوں سے متعلق معلومات نہیں چرائی گئیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں پولیس اور متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے۔

یاہو نے ستمبر میں انکشاف کیا تھا کہ سنہ 2014 میں اس کے نظام میں دخل اندازی کر کے صارفین کی معلوما ت چرائی گئی تھیں۔ تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ ایسا کس ملک کی جانب سے کیا گیا تھا۔اس کے بعد یاہو پر کافی دباو ڈالا گیا کہ وہ وضاحت دے کہ اس بات کو عوام تک پہنچانے میں زیادہ وقت کیوں لگایا گیا۔اب اس تازہ انلشاف سے مزید سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔