غذاءنہیں بلکہ۔۔ سائنسدانوں نے بچوں کو صحت مند رکھنے کے لئے ایسے شاندار طریقہ بتادیا کہ آپ بھی اس پر عمل کریں گے

ماہرین صحت اور تحقیق کار ایک عرصے سے جانتے ہیں کہ سماجی و معاشی محرومی کے شکار طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کی صحت کا معیار تسلی بخش نہیں ہوتا،

غذاءنہیں بلکہ۔۔ سائنسدانوں نے بچوں کو صحت مند رکھنے کے لئے ایسے شاندار طریقہ بتادیا کہ آپ بھی اس پر عمل کریں گے

سان فرانسسکو :  ماہرین صحت اور تحقیق کار ایک عرصے سے جانتے ہیں کہ سماجی و معاشی محرومی کے شکار طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کی صحت کا معیار تسلی بخش نہیں ہوتا، لیکن پہلی بار ایک نفسیات دان نے محرومی کے شکار ان بچوں کی صحت کو منفی اثرات سے بچانے اور اس کا معیار بہتر کرنے کے لئے اہم ترین بات دریافت کر لی ہے۔


ویب سائٹ سائنس بلاگ کی رپورٹ کے مطابق سان فرانسسکو سٹیٹ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی نفسیات دان پروفیسر ملیسا ہیگن کی تحقیق میں یہ اہم ترین بات سامنے آئی ہے کہ سماجی و معاشی محرومی کے شکار طبقات سے تعلق رکھنے والے والدین اگر اپنے بچوں کے ساتھ قریبی اور مثبت تعلق رکھیں تو ان کی صحت کو منفی اثرات سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ والدین کا قریبی اور شفقت پر مبنی رویہ ان بچوں کو ذہنی دباﺅ اور عصابی تناﺅ جیسی منفی کیفیت میں مدد اور سہارا فراہم کرتا ہے، جو ان کی عمومی صحت کے لئے بہتر ثابت ہوتا ہے۔

سائنسی جریدے سائیکو سومیٹک میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں پروفیسر ملیسا کہتی ہیں کہ ہم اکثر سکولوں اور ہسپتالوں میں یہ سوال سنتے ہیں کہ محروم طبقات کے بچوں کی صحت پر منفی اثرات کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ والدین کا کردار اس ضمن میں اہم ترین چیز ہے۔ تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کی عمومی صحت موسم بہار میں دیگر بچوں کی نسبت کم ترین سطح پر ہوتی ہے۔

تحقیق کاروں نے پتہ چلایا کہ جن والدین کی رائے اپنے بچوں کے بارے منفی تھی یا ان کا تعلق قریبی اور پرجوش نہیں تھا ان میں صحت کے مسائل سب سے زیادہ پائے گئے۔ جن بچوں کے والدین کا ان کے ساتھ قریبی اور مثبت تھا وہ ذہنی دباﺅ اور معاشرتی مشکلات سے بھی بہتر طور پر نمٹ پاتے تھے اور ان کی عمومی صحت کا معیار بھی بہتر تھا۔

پروفیسر میلسا کا کہنا تھا کہ اس تحقیق کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ طبی ماہرین کو بچے کی صحت کا معائنہ کرتے ہوئے اس کے والدین سے بھی گفتگو کرنی چاہیے۔ والدین سے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ ان کا بچے کے ساتھ تعلق کیسا ہے اور اگر کچھ مسائل درپیش ہوں تو انہیں ان مسائل کے حل کے لئے تعلیم اور تربیت دینی چاہیے۔