ٹرمپ کا پیوٹن کو فون، شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر تبادلہ خیال

ٹرمپ کا پیوٹن کو فون، شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر تبادلہ خیال

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن کو فون کیا اور شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر کشیدگی ختم کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔ وائٹ ہاؤس کے حکام کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان 10 منٹ تک فون پر رابطہ ہوا جس کے دوران شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے پیدا ہونے والے مسائل کے خاتمے پر بات چیت کی گئی۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران قومی سلامتی کے مشیر میک ماسٹر موجود نہیں تھے جب کہ ولادی میر پیوٹن کو فون کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ روس کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب ماسکو میں اپنی سالانہ پریس کانفرنس کے دوران روسی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا اور روس کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور کچھ پابندیوں کے سبب تعلقات میں بہتری نہیں آ سکی تاہم امید ہے کہ وقت کے ساتھ روس اور امریکا کے تعلقات معمول پر آ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف مسائل پر روس اور امریکا مشترکہ طور پر کام کر سکتے ہیں، افغانستان میں سیکورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں جب کہ امریکا اور روس مل کر افغانستان کی مدد کر سکتے ہیں۔ ولادی میر پیوٹن نے کہا کہ امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزامات بے بنیاد ہیں تاہم سفارت کاروں کا آپس میں رابطے رکھنا ایک معمول کا عمل ہے۔

 

 

شمالی کوریا کے حوالے سے روسی صدر کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا میں جو ہو رہا ہے وہ ردعمل ہے کیونکہ امریکا بہت سے معاہدوں سے پیچھے ہٹ گیا ہے جب کہ روس کوریائی خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک دیکھنے کی پالیسی پر کار بند ہے۔

 

 

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں