کابل میں سہ فریقی مذاکرات،پاکستان،افغانستان اور چین کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

کابل میں سہ فریقی مذاکرات،پاکستان،افغانستان اور چین کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط
تصویر بشکریہ ڈاکٹر فیصل ٹوئٹر اکائونٹ

کابل :افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستان،افغانستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کے پہلے دور کا اختتام ہوگیا ہے جبکہ تینوں ممالک کے درمیان مفاہمی یادداشت پر دستخط بھی کئے گئے ۔


تفصیلات کے مطابق کابل میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات میں افغان مفاہمتی عمل، علاقائی سلامتی اور امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پہلے دورے کے اختتام پر تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان انسداد دہشت گردی اور سکیورٹی تعاون بڑھانے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب افغان صدارتی محل میں ہوئی اور اس موقع پر افغان صدر اشرف غنی بھی موجود تھے۔

پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کی جب کہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی اور افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی اپنے اپنے وفود کی قیادت کررہے تھے۔بعدازاں تینوں وزرائے خارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خطے میں معاشی ترقی، امن واستحکام کیلئے دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے، پاکستان اور افغانستان 40 برسوں سے دہشت گردی کا سامنا کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کا موقف انتہائی واضح ہے، پاکستان دہشت گردی کی ہر سطح پر مذمت کرتا ہے، عوام اور سکیورٹی فورسز کثیر تعداد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے۔وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ سہ فریقی فورم ورک فورس کی صلاحیت بڑھانے اور تکنیکی معاونت کیلئے استعمال کیاجاسکتاہے، فورم کے ذریعے معلومات کا تبادلہ انتہائی اہم ہوگا۔

افغانستان کے وزیرخارجہ نے کہا کہ علاقائی روابط سے بڑھانے سے افغانستان میں امن قائم ہوگا، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنائیں گے،ہم چین کے ون بیلٹ ون روڈ کی حمایت کرتے ہیں۔چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان، پاکستان مسائل کو پر±امن طریقے سے حل کرنے پر رضامند ہوگئے، تینوں ممالک دہشتگرد گروپوں کے خلاف مشترکہ جنگ پر متفق ہوگئے۔