دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے فاٹا اور خیبر پختونخوا کو ایک کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے، عمران خان

دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے فاٹا اور خیبر پختونخوا کو ایک کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے، عمران خان

پشاور:  پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لاہور اور پشاور میں دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے فاٹا اور خیبر پختونخوا کو ایک کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے فاٹا کو کے پی کے میں جلد از جلد ضم کرنا ہو گا تاخیر کی صورت میں فاٹا میں دہشتگردی کو پاؤں جمانے کا موقع مل جائے گا جس کے اثرات پورے ملک میں پڑیں گے.


حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہم نے یہاں تو کسی اور مقصد کے لیے آنا تھا مگر بدقسمتی سے افسوسناک سانحہ پیش آگیا ہے جس میں ججز کو نشانہ بنایا گیا ہے اللہ تعالی کا شکر ہے کہ ججز بچ گئے ہیں صرف معمولی زخمی ہوئے ہیں بدقسمتی سے ڈرائیور شہید ہوا ہے اس لیے ہم نے پروگرام ملتوی کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کے لیے تقریباً پورے ملک میں اتفاق رائے ہو گیا ہے اب اس پر جلد از جلد عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے جتنی جلدی اس پر عملدرآمد ہو گا اتنی ہی جلدی وہاں ترقی کے منصوبے شروع ہوں گے دہشتگردی کی نئی لہر نظر آرہی ہے اس پر قابو پانے کے لیے سیکورٹی فورسز اور ایجنسیوں کو ملکر تیاری کرنی ہو گی .

عمران خان نے کہا کہ میری پرویز خٹک سے ہونے والی ملاقات میں اس پر تفصیلی گفتگو ہوئی کہ فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کے لیے صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کو کون سے اقدامات کرنے چاہیں انہوں نے کہا کہ فاٹا کی بحالی کے لیے وسائل درکار ہوں گے وہ حکومت کو دینے ہوں گے ضرب عضب ختم ہونے پر فاٹا اور خیبر پختونخوا کو ایک ہونا تھامگر ہم ایک سال لیٹ ہو گئے ہیں عمران خان نے کہا کہ فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنانا غیر مناسب ہے مناسب یہی ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے فاٹا کو صوبے میں ضم کر دیا جائے انہوں نے کہا کہ فاٹا کو ضم کرنا آسان نہیں ہو گا فاٹا کے لیے علیحدہ قوانین ہیں اس میں تھوڑا مسئلہ آئے گا وفاقی حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ فاٹا کو فنڈز دیتی ایک سوال پر عمران خان نے کہا کہ آئی ڈی پیز اگر واپس جاتے ہیں تو ان کے پاس رہنے کی جگہ نہیں ہے ان کے گھر دکانیں تباہ ہو گئے ہیں وہاں بیروزگاری ہے لہذا اس کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کو بیٹھکر فیصلہ کرنا ہو گا اس کے لیے فنڈز درکار ہیں ملکر فنڈز خرچ کرنے ہوں گے اور فنڈز وہاں کی لوکل گورنمنٹ کے ذریعے خرچ کیے جائیں.

اس موقع پر وزیر اعلٰی پرویز خٹک نے کہا کہ اس وقت فاٹا کو سال میں 50ارب روپے ملتے ہیں جب این ایف سی ایوارڈ ملے گا تو یہ رقم 80سے 100ارب تک پہنچ جائے گی اس طرح ان کے وسائل میں اضافہ ہو گا اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ فاٹا کو 10سال تک ہر سال 100ارب روپے اضافی دیے جائیں وسائل کی کمی نہیں ہو گی اس لیے ہم کہتے ہیں کہ فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کا جلد از جلد فیصلہ کیا جائے اور آئندہ الیکشن میں فاٹا کو صوبے کا حصہ بنایا جائے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی ہمارے صوبے کے ہیں اور اس صوبے میں آئیں ان سے ہمارا تعلق ہے ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔