بلڈ پریشر بڑھنے کی وہ 5 علامات جنہیں ہم نظر انداز کردیتے ہیں

بلڈ پریشر بڑھنے کی وہ 5 علامات جنہیں ہم نظر انداز کردیتے ہیں

بلڈ پریشر بڑھنے کی وہ 5 علامات جنہیں ہم نظر انداز کردیتے ہیں

نیویارک:  بلڈ پریشر یا بلند فشار خون کو خاموش موت بھی کہا جاتا ہے۔اس میں مبتلا افراد کو علم ہی نہیں ہوپاتا اور وہ اس کا شکا رہوجاتے ہیں ۔اس بیماری کا علم تب ہوپاتا ہے جب یہ جسم کا بہت زیادہ نقصان کرچکا ہوتا ہے۔اکثر لوگوں کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کا بلڈ پریشر ہائی ہوچکا ہے اور جب وہ ڈاکٹر کے پاس جاکر چیک کرواتے ہیں تو انہیں اس کے بارے میں پتا لگتا ہے۔


اس کی کچھ ایسی علامات ہیں جو سامنے آنے لگتی ہیں لیکن ہم اپنی لاعلمی میں اس پر غور نہیں کرتے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو یہ مسئلہ درپیش ہووہ کشمکش، سردرد، دل کی دھڑکن کی بے قاعدگی، سینے کی درد، کان میں آوازیں آنا، تھکاوٹ اور بعض اوقات ناک سے خون آنا جیسی علامات کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر بلڈپریشر کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے اور بروقت اس کا علاج نہ کیا جائے تو دل کی بیماریوں کے ساتھ گردے بھی ناکارہ ہوسکتے ہیں۔آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ ہائی بلڈ پریشر کی صورت میں کس طرح کے کھانوں کا استعمال کرنا چاہیے اور کن چیزوں سے پرہیز ضروری ہے۔

سوڈیم والے کھانے

عموماًڈبوں کے کھانوں میں سوڈیم کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے لہذا ان سے پرہیز ضروری ہے،اسی طرح آپ کو چاہیے کے نمک کا استعمال کم سے کم کریں۔

کیفین: یہ چائے، کافی، انرجی ڈرنک اور بوتلوں میں پائی جاتی ہے اور اس کی وجہ سے انسان کا بلڈپریشر زیادہ ہوجاتا ہے۔

اومیگا تھری : ایسے کھانے جن میں اومیگا تھری کی مقدار موجود ہوانہیں ضرور کھائیںکیونکہ ان کی وجہ سے بلڈ پریشر کم رہے گا۔السی کے بیج، سولومن مچھلی وغیرہ میںاس کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔

فائبر والے کھانے: آپ کو چاہیے کہ فائبر والے کھانے جیسے کچی سبزیاں، گندم، اسپغول وغیرہ کا استعمال کریں کہ ان میں موجود فائبر کی وجہ سے آپ کی خون کی نالیاں ٹھیک رہیں گی۔

پوٹاشیم والے کھانے: جیسے سوڈیم والے کھانے آپ کے لئے زہر قاتل اسی طرح پوٹاشیم والے کھانے آپ کے لئے بہت مفید ہیں۔

سیب کا سرکہ: اس میں پوٹاشیم کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے لہذا اس کا استعمال باقاعدگی سے کریں۔

لہسن: جن لوگوں کو مستقل طور پر یا کبھی کبھار بلڈ پریشر کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے انہیں چاہیے کہ وہ لہسن کو اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ بنالیں۔ اس کی وجہ سے نائٹرک ایسڈ کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے بلڈ پریشر میں کمی آتی ہے۔