نیب ریفرنسز، شریف خاندان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں خارج

اسلام آباد: اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف اورمریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں خارج کر دیں۔ سابق وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی نے 19 فروری سے دوہفتوں کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست احتساب عدالت میں دائر کی تھی۔

 اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر ریفرنسز کی سماعت کی۔اس موقع پر نواز شریف کے وکیل کی جانب سے کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جب کہ اس سے قبل ریفرنس میں نامزد تینوں ملزمان نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی تھی۔ سابق وزیراعظم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو حاضری سے استثنیٰ دیا جائے جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے شدید مخالفت کی۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ٹرائل اب مکمل ہونے کے مرحلے میں ہے اس لئے ملزمان کو حاضری سے استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ دو ملزمان پہلے ہی عدالت سے اشتہاری ہیں اور دونوں بیٹےکلثوم نواز کی دیکھ بھال کے لیے لندن میں موجود ہیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا جسے بعدازاں سناتے ہوئے ملزمان کی جانب سے دائر درخواستیں خارج کردیں جب کہ عدالت نے نیب ریفرنسز کی سماعت 22 فروری تک کے لئے ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ ملزمان کی جانب سے دائر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ بیگم کلثوم نواز برطانیہ میں زیر علاج ہیں ان کی طبیعت شدید خراب ہے اور کچھ میڈیکل ٹیسٹ ہونے ہیں جب کہ ڈاکٹرز نے تجویز کیا ہے کہ اس موقع پر مریضہ کے شوہر کا ان کے ساتھ ہونا بہتر ہے۔ نامزد تینوں ملزمان کی جانب سے درخواست 19 فروری سے دو ہفتوں کے لیے حاضری سے استثنیٰ کے لئے دائر کی گئی تھی۔ 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں