افغانستان میں گزشتہ برس2300 سویلین ہلاک یا زخمی ہوئے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ : اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برس جنگ زدہ افغانستان میں سینکڑوں حملوں اور خود کش بم دھماکوں میں 2300 عام شہری ہلاک یا زخمی ہوئے۔

جمعرات کو جاری کردہ عالمی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس اگست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد افغانستان میں حملوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے لئے کوئی نظام الاوقات طے نہیں کیا گیا۔ اس دوران امریکا نے افغانستان میں اپنے فوجیوں اور جنگی طیاروں کی تعداد میں اضافہ کردیا تھا جس کے بعد طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروپوں نے بھی اپنی کارروائیاں تیز کردیں۔

دریں اثناء افغان طالبان نے کہا ہے کہ وہ 17 سالہ خانہ جنگی کے خاتمے کی خاطر مذاکرات پر تیار ہیں۔ طالبان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ترجیح ہے کہ ملکی مسائل کا حل پرامن مذاکرات سے تلاش کیا جائے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طالبان کے خلاف اپنی پالیسی میں شدت لا چکے ہیں۔