بھارت میں ٹک ٹاک پر پابندی کے لیے اپیل دائر کرنے کا فیصلہ

بھارت میں ٹک ٹاک پر پابندی کے لیے اپیل دائر کرنے کا فیصلہ
تصویر ٹوئٹر

ممبئی: ڈب سمیش کے بعد ویڈیوایپ ٹک ٹاک نے سب کو اپنا دیوانہ بنا لیا۔


آج کل کی نوجوان نسل میں تو کیا ہر عمر کے سمارٹ فون صارف کے موبائل میں ٹک ٹاک ایپلی کیشن موجود ہے جس پر سب ڈبنگ کر کے اپنی ویڈیوز بناتے اور اپ لوڈ کرتے ہیں۔ اگر کوئی ٹک ٹاک ایپلی کیشن استعمال نہیں کرتا تب بھی اس کے بارے میں سن ضرور رکھا ہو گا۔

ٹک ٹاک ایپلی کیشن کے استعمال کو بڑھنے سے روکنے اور لوگوں میں اس کا مزید پھیلا روکنے کے لیے بھارت میں تامل ناڈو کی حکومت نے ٹک ٹاک ایپلی کیشن پر پابندی کے لیے اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق تامل ناڈو کی حکومت نے اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم ٹک ٹاک ایپلی کیشن کے بائیکاٹ کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

ایپلی کیشن پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے کی وجوہات بتاتے ہوئے ممبر اسمبلی نے بتایا کہ یہ ایپلی کیشن ملک کے نوجوانوں اور بچوں کو گمراہ کر رہی ہے اور بچے اس پر نازیبا اور نامناسب ویڈیوز دیکھ کر اپنا مستقبل تباہ کرسکتے ہیں۔

اس حوالے سے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے وزیر ایم منی کاندان نے کہا کہ اب چونکہ سیاسی رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے لہٰذا ٹک ٹاک ایپلی کیشن پر پابندی عائد کرنے کے لیے اپیل کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس گیم کو بھی ٹھیک اسی طرح بند کروایا جائے گا جس طرح ملک میں بلیو وہیل گیم پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

یاد رہےکہ حال ہی میں ٹک ٹاک ایپلی کیشن کے پاکستان میں بند ہونے سے متعلق بھی خبریں گردش کر رہی تھیں جس کے بعد ک ٹاک انتظامیہ خود ہی میدان میں آگئی تھی اور ایسی تمام خبروں کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے دیا تھا۔ واضح رہے کہ ٹک ٹاک ایپلی کیشن پاکستان میں بھی مقبول ترین ایپلی کیشنز میں سے ایک ہے۔