دہشت گردی کو کسی مذہب اور قومیت سے نہیں جوڑا جا سکتا، پاک ترک مشترکہ اعلامیہ

دہشت گردی کو کسی مذہب اور قومیت سے نہیں جوڑا جا سکتا، پاک ترک مشترکہ اعلامیہ
چیلنجز میں ایک دوسرے کی مدد اور حمایت کے جذبے کی یاد دہانی کی گئی، پاک ترک مشترکہ اعلامیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فوٹو/ ریڈیو پاکستان

اسلام آباد: پاک ترک دونوں ممالک نے چیلنجزمیں ایک دوسرے کی مدد اور حمایت کے جذبے کی یاد دہانی کی جب کہ دہشت گردی اور نسل پرستانہ حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔


ترک صدر کے دورے کے اختتام پر دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے شاندار تعلقات کو باہمی فائدہ مند شراکت داری کو توسیع دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ دونوں ممالک کے لازوال تعلقات کے تحفظ پر زور دیا گیا، چیلنجز میں ایک دوسرے کی مدد اورحمایت کے جذبے کی یاددہانی کی گئی اور دونوں ممالک کی لازوال دوستی کا اعادہ کیا گیا۔

اعلامیہ کے مطابق اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے دہشت گردی اور نسل پرستانہ حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، اقوام متحدہ کی سینکشنز رجیم کا دائرہ کار بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت اور تہذیب سے نہیں جوڑا جا سکتا، دہشت گردی کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے اور خاص طور پر طویل مدت تصفیہ طلب تنازعات کے حل اور غیر ملکی تسلط کے خاتمے پر زور دیا گیا۔

اعلامیے میں دہشت گردی کی لعنت کے خلاف لڑائی کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا، پاکستان ترکی ’ڈیکلریشن آف اسٹریٹجک اکنامک فریم ورک‘ اینڈ ایکشن پلان کو حتمی شکل دینے کا خیر مقدم کیا گیا، پاک ترک ہائی لیول اسٹریٹجک تعاون کونسل میکانزم پر زور دیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان وزراخارجہ کی سطح پر مشاورت کے دائرہ کار کو توسیع دی جائے گی، ہائی لیول اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل فورم کو جاری رکھا جائے گا جب کہ دوطرفہ ادارہ جاتی میکانزم پربھی اتفاق کیا گیا۔