بھارتی ریاست گجرات کے سکول میں سینیٹری پیڈ ملنے پر طالبات کو برہنہ کردیا گیا

بھارتی ریاست گجرات کے سکول میں سینیٹری پیڈ ملنے پر طالبات کو برہنہ کردیا گیا

نئی دہلی:بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات کے شہر بھوج میں گرلز انسٹیٹیوٹ کے لان سے سینیٹری پیڈ ملنے پر پرنسپل نے طالبات کو حیض کی جانچ کےلئے برہنہ کردیا۔


غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ بھارتی ریاست گجرات کے بھوج شہر کے ساہاجنند گرلز انسٹیٹیوٹ کے ہاسٹل میں پیش آیا۔گرلز ہاسٹل کے لان سے سینیٹری پیڈ ملنے پر انسٹیٹیوٹ کی پرنسپل نے ہاسٹل میں رہنے والی طالبات کو بلایا اور ماہواری کی جانچ کےلئے انہیں کپڑے اتارنے پر مجبور کیا۔رپورٹس میں کہا گیا کہ 68 طالبات کو ایک ایک کرکے واش روم لے جایا گیا جہاں انہوں نے ایک ایک کرکے ماہواری کی جانچ کرائی۔

خیال رہے کہ یہ انسٹیٹیوٹ ہندو فرقے سوامی نرائن کی زیر سر پرستی چل رہا ہے اور اس فرقے کے تحت لندن سمیت دنیا بھر میں کئی بڑے مندر بھی چلائے جارہے ہیں۔

طالبات نے انتظامیہ کے ہتک آمیز روئیے کے خلاف احتجاج بھی کیا جس پر یونیورسٹی کی جانب سے کمیٹی بنادی گئی ہے۔احتجاج کرانے والی طالبات کے مطابق اپنی اس تذلیل کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں کہ ہمیں کس ذہنی صدمے سے گزرنا پڑا۔

یاد رہے کہ بھارت میں اب بھی حیض کے دنوں میں خواتین کو بالکل الگ تھلگ رکھا جاتا ہے اور ان خاص ایام میں انہیں مندروں میں بھی جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔