اسرائیل سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے سے باز رہے،فلسطینی صدر

اسرائیل سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے سے باز رہے،فلسطینی صدر

فلسطینی صدر محمود عباس نے نومنتخب امریکی صدر کو تنبیہ کر دی۔ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے سے باز رہے۔اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے تل ابیب میں سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کیا تو اسرائیل کو تسلیم کیا جانے والا فلسطینی فیصلہ واپس لینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔صدر عباس نے کہا کہ "سفارتخانہ منتقلی کی صورت میں ہمارے پاس کئی آپشنز ہیں جن پر ہم عرب ملکوں کے ساتھ تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔"


دوسری جانب اپوپ فرانسس سےملاقات میں محمود عباس نے کہا فلسطینیوں کےگھرمسمارکیےجارہےہیں اورغیرقانونی بستیاں آبادکی جارہی ہیں۔اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس کوصرف یہودیوں کاشہربنانےپرتلاہواہے۔

دیواربناکراسرائیل خاندانوں کوتقسیم اورمقبوضہ دارالحکومت کوفلسطین سےعلیحدہ کررہاہے۔فلسطینی صدر نے مزید کہا کہ اسرائیل کےاقدامات کوقانونی حیثیت دی گئی توسیاسی حل کاامکان ختم ہوجائےگا۔فلسطینی صدرمحمودعباس نےویٹی کن میں فلسطین کےسفارتخانےکاافتتاح بھی کیا۔