نیپالی قبیلے کی ایسی رسم جسے جان کر آپ سر پکڑ لیں

نیپالی قبیلے کی ایسی رسم جسے جان کر آپ سر پکڑ لیں

کٹھمنڈو :ہمارے ہاں دنیا سے رخصت ہونے والوں کی انتہائی عزت و تکریم کے ساتھ تدفین کی جاتی ہے، لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو مرنے والے کی کھوپڑی میں سوراخ کرتے ہیں اور پھر ایک گڑھے میں سیدھا کھڑا کر کے اوپر مٹی ڈال دیتے ہیں۔ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق یہ خانہ بدوش قبیلہ ”راؤت ‘ کہلاتا ہے اورہمالیہ کے بلند پہاڑوں کے دامن میں پھیلے گھنے جنگلات کے اندر دنیا کی نظروں سے چھپ کر رہتا ہے۔


ان کے طرز زندگی کا آج کے جدید دور سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ راؤت قبیلے کے لوگوں کا کوئی مستقل گھر نہیں کیونکہ جب بھی ان کے ہاں قبیلے کے کسی فرد کی موت ہوتی ہے تو یہ نقل مکانی کرجاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ قبیلے کے کسی شخص کی موت ہوجانے پر پورا قبیلہ بدروحوں کے نشانے پر ہوتا ہے، لہٰذا علاقہ تبدیل کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ بداثرات سے بچنے کے لئے یہ مرنے والے کو سیدھا کھڑا کرکے زمین میں دباتے ہیں، لیکن اس سے پہلے کھوپڑی میں ایک سوراخ ضرور کردیتے ہیں تاکہ اس کے راستے روح کو پرواز کرنے کا موقع مل سکے۔ اس کے بعد یہ لوگ علاقہ چھوڑتے ہیں اور کسی اور جانب نکل جاتے ہیں۔

ان کے رسوم و رواج ہی عجیب نہیں ہیں بلکہ ان کی خوراک بھی انتہائی متنازعہ ہے۔ لنگور اور چھوٹے مکیک بندر ان کی محبوب غذا ہیں، جنہیں یہ آج بھی نیزوں اوربھالوں کے ساتھ شکار کرتے ہیں۔ ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے فوٹوگرافر جان مولر ہینسن گزشتہ سال پہلی مرتبہ اس قبیلے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ہینسن کا کہنا ہے کہ یہ قبائلی لوگ کسی باہر کے فرد کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے۔ انہیں اس قبیلے کے ساتھ وقت گزارنے اور ان کی تصاویر بنانے کے لئے سخت تگ و دو کرنا پڑی۔