سرینگر:کشمیر کے حریت رہنما یاسین ملک نے بھارتی آرمی چیف کے بیان کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنرل بپن راوت کا بیان ان کے فاشسٹ ذہن کا عکاس ہے اور اس بیان کے بعد ثابت ہوگیا ہے کہ بھارت کا اصل کنٹرول فوج کے ہاتھ میں ہے۔

تفصیلات کے مطابق حریت رہنما نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی آرمی چیف مسلم اور کشمیر دشمنی میں حدیں پھلانگ رہے ہیں ۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق محمد یاسین ملک نے کہا کہ جنرل بپن راوت کا بیان انکی کشمیر و مسلم دشمنی کو ظاہر کرتا ہے،ا گرچہ وہ فوج کے سربراہ ہیں لیکن کام ہندو انتہا پسند تنظیم’ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ‘والوں کا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر بھارتی فوج کے سربراہ کشمیریوں کو ڈرانے اور دھمکانے والے بیانات داغتے رہتے ہیں۔

ہم بھارتی فوج کے سربراہ کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ان کی فوج ، دیگر فورسز ،پولیس اور دوسری ایجنسیوں نے گزشتہ 70 سال کے دوران کشمیریوں کی جدوجہدآزادی کو دبانے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا ہے لیکن یہ مذموم حربے ماضی میں بھی کشمیریوں کی آواز کو دبانے میں ناکام رہے ہیں اور مستقبل میں بھی ناکام و نامراد ہوکر رہیں گے۔

مقبوضہ کشمیر کی وزیر اعلیٰ کے بارے بات کرتے ہوئے یاسین ملک کا کہنا تھا کہ محبوبہ مفتی کے بیانات کشمیر کی متنازعہ حیثیت نہیں بدل سکتے،محبوبہ مفتی ہندوﺅں کی خوشنودی کیلئے تاریخ مسخ کررہی ہیں ۔
خیال رہے کہ بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ پاکستان کی جوہری صلاحیت کو ایک فریب قرار دینے کے لیے تیار ہیں۔