کیلشیم سپلیمنٹ کا استعمال انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب کرتا ہے،ماہرین صحت

لاہور:کیلیشیم انسانی صحت کیلئے انتہائی اہم جزو کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ جسم کی پیچیدگی اعضاءجیسے خون کی گردش،مسلز کی حرکت اوربہت سے دوسرے فرائض انجام دیتا ہے۔کیلیشیم کودماغ اور ہڈیوں کی بہتر کارکردگی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھتا جاتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق لیکن اگر اسی کیلیشیم کی مقدار سپلیمنٹ کی صورت میں لی جائے اور زیادہ مقدار میں استعمال کرنا شروع کردی جائے تو یہ انسانی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرتا ہے ۔کیلیشیم کی زیادتی کی صورت میں ہونے والے نقصانات مندرجہ ذیل ہیں:۔

پٹھوں کا کھچاﺅ اور درد
کیلیشیم کا زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے پٹھوں کا کچھاﺅ اور درد کا عارضہ لاحق ہوسکتا ہے جبکہ عمر رسیدہ افراد زیادہ تعداد میں ان مسائل کا شکار ہوتے ہیں ۔


قبض
کیلیشیم سپلیمنٹ کے استعمال کی زیادتی قبض کا باعث بھی بن سکتی ہے جبکہ معدہ کے امراض میں مبتلا ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔ماہرین صحت اسی وجہ سے کیلشیم کو زیادہ مقدار میں استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔


گردوں میں پتھری
1ہزار ملی گرام سے 13 سو ملی گرام کیلشیم سپلیمنٹ کا استعمال گردوں میں پتھری کا باعث بھی بن سکتا ہے،وٹامن سی کی زیادتی اور پانی کی کمی بھی گردوں میں پتھری پیدا کرتی ہے۔


چڑا چڑا پن اور ڈپریشن
زیادہ مقدار میں کیلشیم استعمال کرنے کا ایک اور نقصان یہ بھی ہے کہ اس سے انسانی نفسیاتی مسائل کا شکار ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے چڑا چڑا پن اور ڈپریشن کی بیماری لاحق ہوجانے کا خطرہ رہتا ہے۔


وٹامن ڈی ٹاکسٹی
وٹامن ڈی اور کیلشیم سپلیمنٹ کا ایک ساتھ استعمال انسانی صحت پر برے اثرات مرتب کرتا ہے اور جسم کے اندر موجود وٹامن ڈی کو زہریلا بنادیتا ہے۔جس کی وجہ سے کمزوری ،گردوں اور دیگر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
ادویات کے اثرات کم کردیتا ہے
وہ ادویات جو کہ آئرن کی مقدار کو کم کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں وہ انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہوسکتی ہیں اگر انہیں کیلشیم سپلیمنٹ کے ساتھ استعمال کیا جائے جبکہ امراض قلب کے مریض کو بھی کیلشیم سپلیمنٹ کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔