اسلام آباد:سا بق چیئرمین ظفر گوندل نے پراپرٹی کی خریداری میں کرپشن کا الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جتنے بھی منصوبے اور پراپرٹی خریدی گئی ان کی بورڈ سے منظوری حاصل کی گئی جس کا ثبوت موجود ہے کمیٹی اگر چاہے توثبوت فراہم کردئیے جائیں گے۔ چیئرمین فقط بورڈ کا ایک رکن ہوتا ہے،160 وہ اکیلا کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا ہے، کوئی بھی پراپرٹی لائیں وضاحت کرنے کو تیار ہوں۔زمین کی خریداری میں پورے بورڈ کا کردار ہوتا ہے۔ سرینا ہوٹل کے حوالے سے جو الزامات لگائے جارہے ہیں وہ بھی ٹھیک نہیں ہیں ۔ سیرینا کی آمدن کا 4.5فیصد کمپنی لے جاتی ہے اور باقی آمدن ادارے کو ملتی ہے۔


موجودہ چیئرمین ای او بی خاقان مرتضی نے کہا کہ کسی بھی منصوبے کا پی سی ون تیار نہیں کیا گیا اور سرینا ہوٹل اسلام آباد میں بھی بے قائدگیاں سامنے آئی ہیں ۔ہوٹل کا فور سے فائیو اسٹار ہوٹل بن جانا بھی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ سرینا ہوٹل بغیر منظوری کے فائیو اسٹار بنا لیا گیا، کنوینر کمیٹی نے کورٹ کیسز کی تفصیلات ایک ہفتے میں طلب کرلی۔ قصر ناز کراچی کی زمین کھربو ں روپے کی ہے مگر پی ڈبلیو ڈی نے وی آئی پیز کے لیے جو کمرے تیار کیے ہیں ان کے واش روم بہت چھوٹے ہیں کنوینر کمیٹی سعیدالحسن مندوخیل۔


تفصیلات کے مطابق سینیٹ ذیلی کمیٹی سمندر پار پاکستانیز اور انسانی ترقی کے وسائل کا اجلاس کنونیئرکمیٹی سینیٹر سعید الحسن مندوخیل کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں ای او بی آئی ادارے کی طرف سے مختلف پراپرٹیز خریدنے کے حوالے سے کرپشن کے معاملات کے علاوہ سابق چیئرمین ای او بی آئی اور دیگر ملازمین کے خلاف نیب اور ایف آئی اے نے کیسز کی پیش رفت پر تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔


سیکرٹری سمندر پار پاکستانیز اور چیئرمین ای او بی نے ذیلی کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ اجلاسوں میں کی گئی کرپشن کے حوالے تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2011سے 2013تک 18پراپرٹی خریدی گئیں ہیں ۔ان میں سے 5پراپرٹی رکھی گئی ہیں ۔ ان کو رکھنے کا ادارے کو فائدہ ہوگا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ کل 16پراجیکٹس شروع کیے گئے ہیں 9مکمل ہوگئے ہیں 7میں کام ابھی جاری ہے اور بہت سے پیسے ریکور بھی کیے ہیں جو پیسے ریکور ہوتے ہیں وہ فیڈر ل گورنمنٹ کے پاس چلے جاتے ہیں اس کو جلد چیلنج کیا جائے گا۔


کنوینر کمیٹی نے ہدایت کی کہ جس ادارے کا پیسہ ہوتا ہے ریکورہونے کے بعد اس کے پاس جانا چاہیے اور 2012سے پہلے جتنی پراپرٹی خریدی گئیں تھیں ان کی تفصیلات بھی ذیلی کمیٹی کو فراہم کی جائے۔ ذیلی کمیٹی نے ای او بی آئی کی جانب سے مختلف علاقوں میں خریدی گئی زمین کا جائزہ لیا ۔ای او بی آئی کے سابق چیئرمین اور ملازمین کے خلاف دائر کرپشن کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔