ریاست کیرالہ نے شہریت کے متنازع قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

ریاست کیرالہ نے شہریت کے متنازع قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا
کیرالہ کی حکومت نے سپریم کورٹ میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف درخواست دائر کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

کیرالہ: ریاست کیرالہ شہریت کا متنازع قانون سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے والی پہلی بھارتی ریاست بن گئی۔ بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور ہر مکتبہ فکر کے لوگ احتجاج میں شریک ہیں۔


پنجاب، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش سمیت کئی بھارتی ریاستیں شہریت کے متنازع قانون کے نفاذ سے انکار کر چکی ہیں تاہم اب بھارتی ریاست کیرالہ قانون کو سپریم کورٹ لے گئی ہے۔

کیرالہ کی حکومت نے سپریم کورٹ میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف درخواست دائر کی ہے جس میں قانون کو بھارتی آئین کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شہریت کا قانون سیکولرازم کے حقیقی اصولوں، بھارتی آئین کے مطابق مساوی حقوق، جینے کے حق اور مذہبی آزادی کے حق کے خلاف ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق متنازع شہریت کے قانون کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں 50 سے زائد درخواستیں زیر التواء ہیں تاہم کسی بھی ریاست کی جانب سے یہ پہلی درخواست ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کیرالہ پہلی بھارتی ریاست بن چکی ہے جس نے متنازع قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے جبکہ دیگر ریاستوں کی جانب سے بھی اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیے جانے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ بھارتی ریاست کیرالہ میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی حکومت قائم ہے جس کے وزیراعلیٰ پینارائے وجے یان ہیں۔