پارلیمنٹ کو اختیار ہے کسی کو بھی طلب کرکے ریکارڈ چیک کرے: ڈاکٹر بابر اعوان

Parliament has the power to summon anyone and check records: Dr Babar Awan
کیپشن:   فائل فوٹو

اسلام آباد: پی ٹی آئی رہنما سینیٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ کون لوگ کہتے ہیں کہ اس ملک میں صرف سیاستدانوں کے خلاف احتساب ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ کو اختیار ہے کسی کو بھی طلب کرکے ریکارڈ چیک کرے، پی اے سی سرکاری اکاؤنٹ چیک کرے گی۔ پہلی بار ہے کہ حکومت اصلاحات کرنا چاہتی ہے۔

سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بابر اعوان کا کہنا تھا کہ اگر اصلاحات یا مذاکرات کرنے ہیں، تو اس کے لیے تیار ہیں۔ فیصلہ کیا جائے کہ لوٹی رقم اور مفرور کو پاکستان واپس لائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کون لوگ کہتے ہیں کہ اس ملک میں صرف سیاستدانوں کے خلاف احتساب ہوتا ہے۔ موجودہ نیب سیٹ اپ گزشتہ قائد ایوان قومی اسمبلی اور قائد حزب اختلاف نے لگایا تھا۔ آج احتساب کےادارے پر تالا لگا کر چابی کسی اور کے حوالے نہیں کی جائے گی۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ آج ادارے ملک میں فعال ہیں تو وجہ یہ ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ کہیں این آر او نہیں دیا جائیگا۔ ہم نیب میں دو جگہوں کو ہاتھ لگانے کو تیار نہیں ہیں۔ نیب آرڈیننس تڑپتا رہا اور مر گیا لیکن آرڈیننس کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا۔ عمران خان حکومت کا تیار نیب آرڈیننس ایوان کی کمیٹی کے پاس گیا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کوئی قانون نہیں بنا سکتی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو تحقیقات کا اختیار ہے۔ گزشتہ 10 سال میں نیب میں کوئی ترمیم نہیں ہوئی۔ عمران خان حکومت نے نیب کے حوالے سے ریفرنس جاری کیا۔ پارلیمنٹ کوئی ججمنٹ پاس نہیں کر سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ معیشت کھڑی ہوگئی، اب بند فیکٹریوں نے بھی دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ پاکستان میں ادارے کبھی چلنے نہیں دیئے گئے۔ آج ادارے فعال ہیں، کسی بھی فورم پر این آر او نہیں دیا جائے گا۔