عدت سے متعلق عدالتی فیصلے پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے: حافظ طاہر اشرفی

عدت سے متعلق عدالتی فیصلے پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے: حافظ طاہر اشرفی
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

لاہور: وزیراعظم پاکستان عمران خان کے معاون خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی حافظ طاہر اشرفی نے عدت سے متعلق عدالتی فیصلے پر ازسر نو غور کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین پاکستان میں ہر شہری کو بنیادی اور برابری کے حقوق حاصل ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں توہین مذہب کیس کے حوالے سے غلط پراپیگنڈا کیا جاتا ہے، ایک سال میں توہین کا کوئی غلط کیس رجسٹرڈ نہیں ہوا۔ آئین پاکستان میں ہر شہری کو بنیادی اور برابری کے حقوق دئیے گئے ہیں، اسی لیے پاکستان میں اقلیتیں پرامن طریقے سے آباد ہیں۔ 

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ امن اورسلامتی کا پیغام نگر نگر، گلی گلی لے کر جائیں گے اور اقلیتوں سے متعلق جو بھی مسئلہ ہو گا اس کو مل بیٹھ کر حل کریں گے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم دنیا کو کیوں نظر نہیں آتے؟ 

عدالت کی جانب سے عدت سے متعلق دئیے گئے فیصلے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے عدت کے حوالے سے دیئے جانے والے فیصلے پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی پر پوری قوت سے عمل درآمد کرایا جائے گا جس کا صرف ایک حصہ نیشنل ایکشن پلان پر مبنی ہے جبکہ پیغام پاکستان کو قانونی شکل دینے کیلئے جلد پارلیمنٹ میں آئینی اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی، جس کے بعد ہم ہر گلی اور نگر اس پیغام کو لے کر پہنچیں گے۔