اسلام باد: پاکستان میں تعینات عراقی سفیر علی یاسین محمد کریم نے گزشتہ روز موصل سے داعش کے انخلاء کے حوالے سے پاکستانی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا داعش کے خلاف جنگ میں عراق کی مدد کرنے والے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ عراقی سفیر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے حوالے سے انٹیلی جنس معلومات کے ساتھ ساتھ پاکستان نے اسلحہ اور فوجی طبی امداد بھی فراہم کی۔ انھوں نے بتایا کہ داعش کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینے والے چند عراقی پائلٹس نے پاکستان میں تربیت حاصل کی۔

عراقی سفیر کا کہنا تھا کہ عراق اور پاکستان کے درمیان جاری انٹیلی جنس تعاون سے ہمیں خطے میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے نمٹنے میں مدد ملی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگ عموماً داعش کے خلاف جنگ میں عراق کے لیے بہت مددگار تھے۔ ساتھ ہی انھوں نے مشرق وسطیٰ کے تنازع میں غیر جانبدار رہنے کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی کو بھی سراہا۔ اس موقع پر عراقی سفیر نے جنگ کے دوران تباہ ہونے والے شہروں کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے مدد کی بھی درخواست کی۔

ان کا کہنا تھا انفراسٹرکچر کی دوبارہ تعمیر کے لیے ہمیں مدد کی ضرورت ہے جو اگلا اہم ٹاسک ہے۔ واضح رہے کہ موصل پر گزشتہ 3 برس سے داعش کا قبضہ تھا، جسے چھڑوانے کے لیے 9 ماہ قبل شروع ہونے والی گوریلا لڑائی گذشتہ ہفتے ہی اختتام پذیر ہوئی اور عراقی وزیراعظم حیدر العابدی نے موصل کو فتح کرنے کا اعلان کیا جس میں انہیں متعدد ممالک کی حمایت حاصل تھی۔

 

یہ بھی یاد رہے پاکستانی یا عراقی عہدیداران کی جانب سے داعش کے خلاف جنگ کے سلسلے میں اس سے قبل پاکستان کی خدمات کا کبھی تذکرہ نہیں کیا گیا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں