چراغ توڑ کر آنکھیں بچا لیں…

چراغ توڑ کر آنکھیں بچا لیں…

سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے صحافی برادری سے پیشہ ورانہ تعلق ڈھکی چھپی بات نہیں۔ بطور وزیر اعلیٰ پنجاب بھر میں صحافیوں کے لیے کالونیاں قائم کر کے انہیں گھر بنانے کا سہرا ان ہی کے سر ہے جس کے لیے صحافی برادری ان کی مشکور ہے۔ وہ عمومی طور پر آزادی صحافت کے علمبردار اور صحافی دوست سپیکر اور وزیر اعلیٰ سمجھے جاتے تھے۔ لیکن پچھلے دنوں ان کی صدارت میں پنجاب اسمبلی نے ایک ایسا قانون پاس کرایا جس کے تحت صحافیوں پر پنجاب اسمبلی کی کارروائی کی رپورٹنگ سپیکر کی حسب منشا نہ کرنے پر ایک جوڈیشل کمیٹی کے ذریعے سمری ٹرائل کر کے تین ماہ سزا اور بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ گورنر پنجاب چودھری سرور کے دستخط کے بعد یہ باقاعدہ قانون بن گیا۔ چودھری برادران سے تمام تر تعلقات کے باوجود بھی جب ان کا ہاتھ آزادی صحافت کے گلے پر محسوس کیا گیا تو ملک بھر کی صحافی برادری ان کے اس اقدام کے خلاف سراپا احتجاج بن گئی۔ ایک مشترکہ لائحہ عمل کے لیے فوری طور پر صدر پریس کلب ارشد انصاری کی سربراہی میں ایک جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنائی گئی جس میں صحافیوں کی تمام یونینز اور پریس کلب کے گروپس شامل کیے گئے، احتجاج کی کال دی گئی اور ملک بھر میں اس کالے قانون کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔ اس پر سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی نے دانستہ چودھری پرویز الٰہی سے ایک اور بلنڈر کرایا اور ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے صحافیوں سے متعلقہ تمام شقیں آئین کے مطابق حذف کرنے کے بجائے معطل کر دیں۔ یعنی ہمیں لالی پاپ دیتے ہوئے سپیکر صاحب کو یہ اختیارات دے دیے گئے کہ وہ یا آنے والے سپیکر جب چاہیں ایک ایڈ منسٹریٹو آرڈر کے ذریعے یہ شقیں بحال کرا لیں اور صحافیوں پر سنسرشپ کے ذریعے اپنے پنجے گاڑ سکیں۔ دوسرے معنوں میں ہماری آنکھیں چھین کر چراغ بانٹنے کی کوشش کی گئی۔ جبکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مطالبہ تھا کہ جس طرح یہ قانون اسمبلی سے پاس کرایا گیا ہے اسی طرح اس ایوان میں پیش کر کے متنازع شقیں ایک ترمیم کے تحت حذف کی جائیں۔ اس کے برعکس سیکرٹری اسمبلی کی اس چالاکی نے پنجاب کی صحافی برادری کو سپیکر کے سامنے لا کھڑا کیا اور احتجاج ملک گیر شکل اختیار کر گیا۔ صحافیوں نے تہیہ کر لیا کہ وہ اس متنازع بل کو ایک ترمیم کے ذریعے ہی دفن کرائیں گے۔ چیئرنگ کراس پر پنجاب اسمبلی کی عمارت کے سامنے ایک بڑے اجتماع میں اس بل پر ایک احتجاجی کیمپ لگایا گیا جس میں راقم سمیت سب نے سخت تقریریں کیں۔ اس مظاہرے سے استاد محترم اور Living legend حسین نقی صاحب نے بھی خطاب کیا۔ اس مظاہرے کو رکوانے  کے لیے سپیکر پنجاب اسمبلی نے بھرپور کوششیں کیں لیکن یہ مظاہرہ ہوا اور بھرپور ہوا۔ بقول سیکرٹری پریس کلب زاہد چودھری کے اس احتجاج سے چودھری صاحبان کا بھرم ٹوٹ گیا۔ اس بل پر صحافی جھک جاتے تو ان کے پلے کیا رہ جاتا اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو کیا جواب دیتے۔ صحافی برادری ڈٹ گئی اور ہر قیمت پر اس بل کی واپسی سے کم پر کوئی سمجھوتا نہ کرنے کا فیصلہ کیا مسئلہ اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی کا تھا۔ جس تیزی اور پُراسراریت سے یہ قانون بنا اور جس سرعت سے گورنر پنجاب نے اس پر دستخط کیے، اس کی واپسی ایک مہنگا خواب ہی لگتی تھی۔ لیکن جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے یہ خواب دیکھا اور اپنی جدوجہد سے اس کی اپنی منشا کے مطابق تعبیر پائی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی سے بزبان وادی سون سکیسر کی ایک نوجوان شاعرہ سعدیہ اعوان کے اتنی ہی عرض ہے۔۔۔

تم کیا جانو؟

مہنگے خواب خریدنا ہو تو

آنکھیں بیچنا پڑتی ہیں

یا

رشتے بھولنا پڑتے ہیں

بہر حال ہم نے یہ مہنگا خواب خریدا اور مشترکہ جدو جہد سے تعبیر بھی پائی۔ اس سارے فسانے میں افسوس کی بات یہ ہے کہ گورنر پنجاب نے بل پر دستخط کے بعد اس حوالے سے ایک مظاہرے میں بھی شرکت کی اور اپنی تقریر میں یقین دلایا کہ اس بل سے میڈیا سے متعلق تمام شقیں واپس لے لی گئی ہیں۔ جبکہ بل پر دستخط کر کے وہ آزادی صحافت کے گلے پر چھری پھیر چکے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گورنر صاحب متعلقہ بل پڑھنے کے بجائے بیوروکریسی پر آنکھیں بند کر کے اعتماد کرتے ہوئے پیش کی گئی دستاویزات پر دسخط کر دیتے ہیں۔ اگر وہ اس بل کے اہم نکات پڑھ لیتے یا بیورو کریسی ان کو اس کے متعلق بتا دیتی تو انہیں سبکی نہ ہوتی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کو بھی ایک نالائق بیوروکریٹ نے ورغلایا اور گورنر پنجاب کی سبکی بھی ان کی بیوروکریسی نے ہی کرائی۔ چودھری صاحب سے عرض ہے سیکرٹری اسمبلی کی اہم پوسٹ برسوں پرانی وفاداری بشرط استواری کے بجائے میرٹ پر کسی ایسے شخص کو دیں جو ان کی سبکی کا باعث نہ بنے۔

مکدی گل بالآخر صحافی اتحاد رنگ لے آیا اور پنجاب اسمبلی میں صحافیوں کے خلاف کالا قانون ایک ترمیمی بل کے ذریعے آئینی طریقے سے واپس ہو گیا۔ اس تاریخی فتح کا سارا کریڈٹ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو جاتا ہے جس نے ہر قسم کے سمجھوتوں اور ذاتی تعلق کو نظر انداز کر کے آزادی صحافت کی لڑائی لڑی اور سرخرو ہوئے۔

اس جنگ کی کامیابی کا سہرہ استاد محترم حسین نقی صاحب، صدر پریس کلب ارشد انصاری، سینئر صحافیوں امتیاز عالم، چیئرمین معین اظہر، احسن ضیا، راجہ ریاض، سیکرٹری پریس کلب زاہد چودھری، سینئر نائب صدر پریس کلب جاوید فاروقی، جوائنٹ سیکرٹری خواجہ نصیر، سدا بہار نعیم حنیف، نوجوان بزرگ بھا یاسین خان سحر، سینئر صحافی قاضی طارق عزیز، عمران شیخ، حامد ریاض ڈوگر، صدر پریس گیلری افضال طالب اور جواں سال اور متحرک سیکرٹری پریس گیلری عباس حیدر نقوی اور ٹریڈ یونینز کے تمام دھڑوں کو جاتا ہے۔

بڑا آدمی وہ ہوتا ہے جو غلطی تسلیم کر لے ہم سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے مشکور ہیں کہ انہیں بروقت احساس ہو گیا کہ بیوروکریسی نے ان سے کیا بلنڈر کرایا اور انہوں نے آزادی صحافت کے خلاف یہ بل واپس لے لیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پریس کلب کی گورننگ باڈی نے بھی اپنے اپنے اجلاسوں میں سپیکر پنجاب اسمبلی کا شکریہ ادا کیا۔

لاہور کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کامیاب احتجاج سے یہ ہوا کہ آزادی صحافت کا گلا گھونٹنے کے لیے اسی طرز کا جو بل قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی لانے کی تیاریاں تھیں، وہاں بھی فی الحال اس معاملے پر پیش رفت رک گئی ہے۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد، پارلیمنٹ کی پریس گیلری اور یونینز کو اس حوالے سے آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں کہ نجانے کب بیوروکریسی ہمارے معصوم سیاستدانوں کو ورغلا لے۔

واضح رہے کہ اس بل میں صحافیوں کے علاوہ بیوروکریسی بھی ہدف تھی۔ صحافیوں کے خلاف اس ترمیمی بل کی منظوری کے بعد بیورو کریسی میں بھی کھلبلی مچی ہے کیونکہ اب صرف وہ زیر عتاب آ سکتے ہیں۔ اس بل کے پاس ہونے کے بعد بیوروکریسی کے کچھ دوست جزبز تھے کہ آپ لوگوں نے احتجاج کر کے استثنا حاصل کر لیا ہے اور ہم پھنس گئے ہیں۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ ہم نے استثنا حاصل نہیں کیا ہم پر چیک اینڈ بیلنس کے پہلے ہی کافی قوانین موجود ہیں اور ہمارا احتجاج آزای صحافت کے خلاف ہتک آمیز بل، جوڈیشل کمیٹی کے وسیع اختیارات اور سمری ٹرائل پر تھا۔ اس کہانی کا پلاٹ آپ نے ہی لکھا تھا۔ اگر یہ بل آپ کی بھی بغیر کسی سیاسی دباؤ کے آزادانہ کام کرنے میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو اس بل کی ڈرافٹنگ اور اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے ہی غور کر لینا تھا۔ ایک جذباتی بیوروکریٹ کا کہنا تھا کہ یہ قانون ان کے سیاسی دباؤ سے آزادانہ فیصلے کرنے کے حق کے لیے ڈیتھ وارنٹ ہے۔ میری کوشش کے باوجود انہوں نے اس ڈیتھ وارنٹ کے آرکیٹیکٹ کا نام نہ بتایا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جو گڑھا آپ لوگوں نے صحافیوں کے لیے کھودا تھا اس میں خود گر گئے ہیں تو اس میں سے نکلنے کا راستہ بھی خود ہی نکالیں۔

قارئین اپنی رائے 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل، بی آئی پی یا ٹیلیگرام کر سکتے ہیں۔