تمام دستاویزات پیش کر دیں، پورا خاندان سرخرو ہو گا: وزیراعظم

تمام دستاویزات پیش کر دیں، پورا خاندان سرخرو ہو گا: وزیراعظم

اسلام آباد: آج وزیراعظم نواز شریف پاناما کیس میں اپنے خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی جانے والی جے آئی ٹ کے سامنے پیش ہوئے۔ وزیر اعظم نواز شریف سے تقریبا 3 گھنٹے  تک پوچھ گچھ کی گئی۔ واپسی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا جے آئی ٹی کے سامنے اپنا موقف پیش کر دیا ہے اور آج کا دن سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ جے آئی ٹی کو تمام دستاویزات پیش کر دیں۔ پاناما لیکس سامنے آتے ہی سپریم کورٹ کا کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن میری پیشکش کو سیاسی تماشوں کی نذر نہ کیا جاتا تو آج تک یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔


ان کا مزید کہنا تھا ایسا کوئی خاندان ملک میں ہے جس کی تین نسلوں کا بے رحمانہ احتساب ہوا ہو جبکہ مشرف کی آمریت نے ہمارا بے دردی سے احتساب کیا اور ہمارے گھروں پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔ آج پھر ہم نے اپنی حکومت میں خود کو احتساب کیلئے پیش کر دیا ہے اس کے باوجود مخالفین جتنے جتن کر لیں الزام لگا لیں ناکام و نا مراد ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا نہ پہلے ہمارے دامن پر کرپشن کا داغ ملااور نہ اب ملے گا صرف ہمارے خاندان اور ذاتی کاروبار کو الجھایا اور اچھالا جا رہا ہے۔ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اس کا سرکاری خزانے کی خورد برد یا کرپشن سے دور کا تعلق نہیں چند دن میں جے آئی ٹی کی رپورٹ بھی سامنے آ جائے گی جس میں میرا پورا خاندان سرخرو ہو گا۔نواز شریف نے کہا کہ اس ملک کے عوام نے مجھے تیسری بار وزیر اعظم بنایا ہے یہ ان کے میرے اوپر کئے گئے اعتماد کا مظہر ہے۔ 

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی جے آئی ٹی میں پیشی سے نئی تاریخ رقم ہوئی، مریم نواز

اس سے پہلے ان کے دونوں صاحبزادے حسین اور حسن نواز بھی پیش ہو چکے ہیں۔ان کے علاوہ نیشنل بینک کے صدر سعید احمد بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔

جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ وزیر اعلیٰ پنجاب، وزیر دفاع اور وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز بھی موجود تھے لیکن انہیں جوڈیشل اکیڈمی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ وزیراعظم نواز شریف کی جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر جوڈیشل اکیڈمی اور اس کے اطراف میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:کیپٹن ریٹائرڈ صفدر بھی جے آئی ٹی میں طلب

یاد رہے کہ وزیراعظم کو جاری کیے گئے نوٹس کے مطابق انہیں ملزم کی حیثیت سے نہیں بلکہ بطور گواہ طلب کیا گیا تھا۔رواں برس 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے تاریخی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا تھا۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایف آئی اے کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی جبکہ جے آئی ٹی کو ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں