بھارتی وزارت داخلہ نے سپین مراکش سرحدی تصویر کو انڈیا کی سرحد دکھا دیا

بھارتی وزارت داخلہ نے سپین مراکش سرحدی تصویر کو انڈیا کی سرحد دکھا دیا

نئی دہلی:بھارتی وزارت داخلہ نے سپین مراکش سرحدی تصویر کو انڈیا کی سرحد دکھا دیا،ٹوئٹر پر انڈیا کی وزارت داخلہ کا مذاق اڑایا جا رہا ہے کیونکہ اس نے پاکستان کے ساتھ اپنی سرحد پر روشنیوں کی ایک تصویر چھاپی ہے جو دراصل میں سپین اور مراکش کے درمیان سرحد کی تصویر ہے۔


اولٹ نیوز ویب سائٹ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ انڈیا کی وزارت داخلہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں یہ تصویر استعمال کی ہے جس کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر فلڈ لائٹسں لگائی گئی ہیں۔تاہم ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ یہ تصویر اصل میں 2006میں سپین کے فوٹوگرافر ژاویئر مویانو نے کھینچی تھی۔

ویب سائٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے اس غلطی کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔شیکھر گپتا نے ٹویٹ کیاکہ اولٹ نیوز کی جانب سے عمدہ طریقے سے حقائق کو چیک کیا۔ کیوں بی ایس ایف کو تصویر کے لیے کہا جائے جب انٹرنیٹ سے تصویر چوری کی جا سکتی ہی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو ماضی میں بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

جب اس نے غلط یا فوٹو شاپ ہوئی تصاویر سرکاری پریس ریلیزوں اور رپورٹس میں استعمال کیں۔انڈیا کی سرکاری پریس انفارمیشن بیورو نے 2015میں ایک ٹویٹ میں فوٹو شاپ کی گئی تصویر چھاپی جس میں نریندر مودی چنئی میں آنے والے سیلاب کا سروے کر رہے تھے۔این ڈی ٹی وی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ سیکریٹری داخلہ راجیو مہریشی نے حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔

اگر یہ وزارت کی غلطی ہے تو ہم معافی مانگیں گے۔واضح رہے کہ انڈیا نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد پر سمگلنگ اور مبینہ دراندازی روکنے کے لیے فلڈ لائٹس نصب کی ہیں۔وزارت کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد پر 647کلومیٹر کے علاقے پر فلڈ لائٹس لگائی گئی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ غلط تصویر سالانہ رپورٹ میں کیسے چھپ گئی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔