سندھ کو جانے والا پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر چلا جاتا ہے: وفاقی وزیر اطلاعات

سندھ کو جانے والا پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر چلا جاتا ہے: وفاقی وزیر اطلاعات
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سندھ کو جو پیسہ دیتے ہیں وہ منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر چلا جاتا ہے، مسلم لیگ (ن) موجودہ دور کی ایسٹ انڈیا کمپنی ہے، گوالمنڈی میں پٹھو گرم کھیلنے والے اب لندن میں پولو دیکھتے ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیربرائے اطلاعات ونشریات فواد چوہدری نے کابینہ اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں جانے والے پیسے کی منی لانڈرنگ کی جاتی ہے، وفاق سے صوبوں کواربوں روپے جاتے ہیں، دبئی، کینیڈا اورفرانس سے منظم طریقے سے پیسہ باہرجاتا ہے اورلوگ کہتے ہیں کراچی کواس کا حق نہیں مل رہا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کو اتنا پیسہ دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود کراچی کے نالوں کی صفائی کیلئے پیسہ وفاق کو دینا پڑتا ہے جبکہ نواب شاہ، لاڑکانہ اورسندھ کے دیگرشہروں کا بھی برا حال ہے۔ 

فواد چوہدری نے کہا کہ کارٹن ہوٹل، جمشید کوارٹر وفاقی پراپرٹی ہے جس کی نیلامی کی جائے گی، والٹن ایئرپورٹ کی زمین 42 فیصد ایئرپورٹ کوباقی 58 فیصد پنجاب حکومت کو ملے گی۔

وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ موجودہ دورکی ایسٹ انڈیا کمپنی ہے، مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف کے مقدمات کی روزانہ کی بنیادپرسماعت ہونی چاہیے، ایف آئی اے نے شہباز شریف کو چار سوالات بھجوائے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ گوالمنڈی میں پٹھوگرم کھیلنے والے اب لندن میں پولودیکھتے ہیں، جن کی ساری لیڈرشپ لندن میں بیٹھی وہ باہربیٹھے پاکستانیوں کوووٹ دینے کے حق میں نہیں، الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہماری پہلی ترجیح ہے، اگلے ضمنی الیکشن میں ای وی ایمز استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے سینماءہالز 30 جون تک کھل سکتے ہیں تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس میں کیا جائے گا اور وہی اس حوالے سے باقاعدہ اعلان بھی کریں گے۔