ہمارے تین پڑوسی ملکوں میں کرونا کا اثر نمایاں ہے،پاکستان کو ہوشیار رہنا ہو گا،شاہ محمود قریشی

 ہمارے تین پڑوسی ملکوں میں کرونا کا اثر نمایاں ہے،پاکستان کو ہوشیار رہنا ہو گا،شاہ محمود قریشی

اسلام آباد:وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمارے تین پڑوسی ملکوں میں کرونا کا اثر نمایاں ہے،پاکستان کو ہوشیار رہنا ہو گا، اگر پاکستان کا بہت سے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ بھی موازنہ کریں تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا کرم ہے ،میں خود صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ساتھ چین جارہا ہوں، چین نے بڑی کمال ہمت، جرات اور ڈسپلن کا مظاہرہ کیا ہے اور کورونا کی وباء پر کافی حد تک قابو پانے میں وہ کامیاب ہوئے ہیں.

ان سے ہم مشاورت بھی کریں گے اور ان کے تجربات سے مستفید بھی ہوں گے اور خدانخواستہ اگر ہماری مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے تو ہماری جو ضروریات ہیں اس پر بھی ان سے تبادلہ خیال کریں گے کہ وہ اپنے تجربوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری کس طرح مدد کرسکتے ہیں، خدا کرے وہ نوبت نہ آئے لیکن احتیاطی حکمت عملی  پر عمل کرنا ہو گا۔ کورونا وائرس سے اس وقت تک عالمی معیشت کو ایک ہزار ارب ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے اور گلو بل گروتھ بھی اس سے متاثر ہو گی۔

پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ پر بھی اس کا اثر ہو ا ہے۔ پاکستان کی معیشت پر بھی کوروناوائرس کا اثر یقیناًہو گا، آئی ایم ایف بھی تجزیہ کر رہا ہے ہم خود بھی کررہے ہیں۔ کو ئی نمبر دینا قبل ازوقت ہو گا لیکن اس وقت ایک تجزیہ ہے کہ پاکستان کی شرح نمو0.2 سے0.5 فیصد تک متاثر ہو سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں گرنے سے کسی حد تک ہمارا امپورٹ بل کم ہو گا ، جہاں ایک منفی پہلو ہے تو وہاں ایک مثبت پہلو بھی سامنے ہے۔

ان خیالات کا اظہار شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی کورونا وائرس کے پھیلنے کے حوالہ سے خبر سامنے آئی تھی ہم نے عالمی ادارہ صحت کی گائیڈلائنز کو سامنے رکھتے ہوئے اقدامات کا آغاز کیا اور جیسے جیسے اس کا پھیلائو دنیا میں بڑھتا جارہا ہے ہم  بتدریج ان اقدامات میں اضافہ کر رہے ہیں ۔ اگر پاکستان کا بہت سے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ بھی موازنہ کریں تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا کرم ہے۔ پاکستان میں28 کیس سامنے آئے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو باہر سے آئے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں مزید اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے ، مغربی بارڈر کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، ہمارے تعلیمی ادارے یا جتنی ایسی سرگرمیاں جہاں بھیڑ اور رش ہوتا ہے اور جسمانی رابطہ کے امکانات ہوتے ہیں ان کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک آگاہی مہم شروع کرنے کی کوشش کی ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ خطہ میں پاکستان کو خاص طور پر ہوشیار رہنا ہو گا کیونکہ ہمارے تین پڑوسی ملکوں میں بیماری کا اثر  نمایاں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف ہماراچین کے ساتھ بارڈر جڑتا ہے، پھر ایران کے ساتھ ہمارا بارڈر جڑتا ہے اور ان دو ممالک کے ساتھ سنجیدہ قسم کی صورتحال پیداہو ئی ہے۔ افغانستان  کی صورتحال بھی ہمارے مدنظر ہے وہاں صحت کی سہولیات کی فراہمی کافی محدود ہے۔پاکستان کو احتیاطی تدابیر سے کام لینا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک اس خطہ کا تعلق ہے، اس خطہ میں دیگر سارک کے ممالک ہیں ان میں بھی سارک سیکرٹریٹ نے اقدام اٹھایا ہے اور وہ چاہ رہے ہیں کہ سارک ممالک آپس کیں کوآرڈینیٹ کریں اور ایک حکمت عملی بنائیں اور اپنے تجربات کا ایک دوسرے سے تبادلہ کریں اور اس خطہ کو محفوظ کرنے کے لئے اقدامات اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے اور سارک ممالک کے ساتھ تعاون کا ہاتھ ہم نے بڑھایا ہے۔ پالیسی یقیناً سیاسی قیادت بناتی ہے تاہم تکنیکی لوگ اوراس پر عملدآمد کرنے والے ادارے اس پر عمل کرتے ہیں۔کورونا وائرس کی وباء کا مقابلہ کرنے کے نیشنل ریسپانس کمیٹی بنائی ہے اس کے سربراہ ڈاکٹر ظفر مرزا ہیں۔

نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے پورا ایکشن پلان ڈاکٹر ظفر مرزا کی پریزینٹینشن کو سامنے رکھتے ہوئے منظور کیا۔ پاکستان کی طرف سے سارک میں ڈاکٹر ظفر مرزا نمائندگی کریں گے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کوروناوائرس کے پیش نظر حکومت نے معاشی تجزیہ کا فیصلہ کیا ہے اور نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کاجو اجلاس ہوا تھا اس میں وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ امور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے تجزیہ پیش کیا تھا ، عالمی معیشت پر اس کا کیا اثر ہوا ہے اس کا ذکر کیا اور انہوں نے بتایا کہ اس وقت تک ایک ہزار ارب ڈالرز کا نقصان عالمی معیشت کو ہو چکا ہے اور گلو بل گروتھ بھی اس سے متاثر ہو گی۔

پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ پر بھی اس کا اثر ہو ا ہے۔ پاکستان کی معیشت پر بھی  کوروناوائرس کا اثر  یقیناًہو گا، آئی ایم ایف بھی تجزیہ کر رہا ہے ہم خود بھی کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کو ئی نمبر دینا قبل ازوقت ہو گا  لیکن اس وقت ایک تجزیہ ہے کہ پاکستان کی شرح نمو0.2 سے0.5 فیصد تک متاثر ہو سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتیں گرنے سے کسی حد تک ہمارا امپورٹ بل کم ہو گا ، جہاں ایک منفی پہلو ہے تو وہاں ایک مثبت پہلو بھی سامنے ہے۔