وزیر اعظم نے ثابت کر دیا معیشت ان کے بس کی بات نہیں، شاہد خاقان عباسی

 وزیر اعظم نے ثابت کر دیا معیشت ان کے بس کی بات نہیں، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے 18ماہ کے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ عمران خان اور معیشت اکٹھے نہیں چل سکتے۔

عمران خان نے اپنے عمل سے سب کو واضح بتا دیا ہے کہ معیشت ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ملکی مسائل کا واحد حل نیا الیکشن نہیں بلکہ اس کے لئے ملک میں موجودہ گورننس کے ماڈل کو تبدیل کرنا ہو گا ، اس پر پہلے اتفاق کرنا ہو گا کہ مستقبل میں ملک کیسے چلے گا، عدلیہ کا کردار کیا ہو گا اور دوسرے اداروں کا کردار کیا ہو گا ، نیب کیا کرے گا، پہلے اصل فیصلہ کر لیں  پھر الیکشن کروا لیں، ورنہ اگر صرف الیکشن کروائیں گے تو پھر آگے بھی معاملہ خراب ہو گا۔

جسٹس (ر)جاوید اقبال ہوتے یا کوئی اور شخص چیئرمین نیب ہوتا تو19/20کا ہی فرق ہوناتھا کام یہی ہوتے کیونکہ ادارہ ہی خراب ہے، اس کی بنیاد ہی خراب ہے، جس چیز کی بنیاد غلط ہو وہاں سے کبھی بہتری کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ میں جب وزیر اعظم تھا اس وقت میں نے کہا تھا کہ نیب اور معیشت تو کیا نیب اور ملک اکٹھے نہیں چل سکتے، یانیب رہے گا یا ملک رہے گا ، آج دیکھ لیں ملک مفلوج ہے۔ عدالتیں از خود نوٹس لیتی رہی ہیں اور آج بھی لیتی ہیں ، عدالتوں کو الیکشن کا بھی ازخود نوٹس لینا چاہیئے تھا کہ الیکشن میں کیا ہوا، کیونکہ الیکشن کے نتائج جتنے ملک پر اثر انداز ہوتے ہیں اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز شریف نے کہا ہے جب بھی میری پارٹی مجھے آواز دے گی میں حاضر ہوں۔ جب پارٹی کو ان کی ضرورت پڑے گی تو وہ اس کے لئے موجود رہیں گی۔مریم نواز کی اپنی کوئی سیاست نہیں ہے بلکہ ان کی سیاست پارٹی کی سیاست ہے، انہوں نے ملکی سیاست، پارٹی کے اندر اور پارٹی کارکن کے دل میں اپنا مقام بنایا ہے، جب بھی پارٹی سمجھے گی کہ اب ان کی ضرورت ہے تو میڈیا ان کو یقیناً موجود پائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز پبلک میں اس وقت آئیں گی جب ان کی ضرورت ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں محمد نواز شریف کے سرجیکل پروسیجر کی تاریخ ان کے ڈاکٹر بتادیں گے۔ پروسیجر کے وقت کا تعین ڈاکٹرز کرتے ہیں اور پہلے مریض کو مستحکم کیا جاتا ہے اب جو مجھے بتایا گیا ہے کہ کافی حد تک استحکام ہے اور آپریشن ممکن ہوسکتا ہے۔ مریم نواز پارٹی کی نائب صدر ہیں اور جب ہم سمجھتے ہیں کہ ان سے مشاورت کی ضرورت ہے تو یقیناً ان سے مشورہ کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف وزیر اعظم بننے اور سیاست میں حصہ لینے کے لئے اہل نہیں ہیں تو وہ کسی سے کیا ڈیل کریں گے۔ نواز شریف نے اگر ڈیل کرنی ہوتی تو بہت پہلے ڈیل کی آفرز تھیں جو انہوں نے کبھی قبول نہیں کی۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایسی باتیں چلتی رہتی ہیں اورمیںنے تو ہمیشہ اس سے ملک کا نقصان ہی ہوتے دیکھا ہے۔جب آئین سے ہٹ کر سیاست کرنے کی کوشش کی جائے تو ملک کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے۔ میں جب وزیر اعظم تھا تو میرے پاس کوئی ڈیل کی آفر نہیں آئی، میں نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ اس بات پر زور دیا جائے کہ انتخابات غیر متنازعہ ہوں اور ملک میں حقیقی جمہوری حکومت قائم ہو۔

ان کا کہنا تھا چوہدری نثار علی خان خود (ن)لیگ چھوڑ کر گئے تھے اور یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا  اگر وہ واپس آنا چاہیں تو پارٹی سے رجوع کریں اور جہاں تک مجھے علم ہے جماعت اعتراض نہیں کرے گی۔ چوہدری نثار کا اپنا فیصلہ ہو گا کہ وہ (ن)لیگ میں واپس آنا چاہتے ہیں کہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 2018کے انتخابات شفاف ہوتے تو ہم حکومت میں ہوتے، اس بات میں مجھے کوئی شبہ نہیں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز شریف، نواز شریف کی حکومت اور سیاست سے علیحدگی کے ایشوپر سیاست میں آئیں اور انہوں نے پارٹی،کارکنوں اور ملکی  سیاست میں اپنا مقام بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی کامیابی کی دلیل یہ ہے جس قسم کے جلسے انہوں نے کئے اس سے بہتر یا جذبہ والے جلسے صرف میاں محمد نواز شریف کے ہوتے رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاستدان کی دوسری کامیابی یہ ہوتی ہے کہ جب اس کو ٹی وی پر دکھانے سے روکا جائے، جب ٹی وی کو کسی شخص کو دکھانے سے روکا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ یقیناً  اس شخص کا ایک اثر ہے جس کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کا آخری جلسہ جو ٹی وی پر نہیں آیا وہ سرگودھا میں ساڑھے چار بجے صبح ختم ہوا اور لوگوں نے بتایا ہے کہ کوئی شخص اپنی جگہ سے ہلا نہیں بلکہ آخری وقت تک لوگ جلسے میں شامل ہو رہے تھے، یہ ایک بڑی منفرد بات ہے کہ ایک ایسے ماحول میں جب الیکشن نہیں ہورہا اگر اس ماحول میں یہ کیفیت ہوتی ہے جب جماعت اعتاب کا شکار ہے، ہرقسم کے کیسز بن رہے ہیں، اس کے باوجود لوگ نکلیں اور آئیں تو یقیناً کسی بھی سیاسی لیڈر کے یہ بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ مریم نواز کا پارٹی میں مثبت کردار رہا ہے انہوں نے پارٹی میں جان اور روح ڈالی ہے۔ہم  صرف  اقتدار کے لئے سیاست نہیں کرتے، ہماری سیاست تو  ملک کی بہتری کی سیاست ہے اور ہم نے ہمیشہ یہ بات عملی طورپر دکھائی ہے کہ ہم نے ملکی مفاد پر  سیاست کو کبھی ترجیح نہیں دی ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن ہوتے ہیں تو جس کو پارٹی نامزد کرے گی وہی وزیر اعظم کا میدوار ہو گا، جو کو پارٹی نامزد کرے وہی بنایا جاتا ہے، اس حوالہ نواز شریف مشورہ ضرور کریں گے تاہم حتمی فیصلہ نواز شریف کی طرف سے ہی آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا اگر ابھی الیکشن کراتے ہیں تو پارٹی صدر میاں محمد شہباز شریف ہیں اور یہ ان کا حق ہے کہ وہ وزیر اعظم کے طور پر آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ آج بھی قائم ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کو لوگ ووٹ دیں اس کی حکومت بننی چاہیئے، شفاف الیکشن ہونا چاہیئے  اور حکومت آئین کے مطابق چلے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر روز روز تبدیل نہیں ہوتا، یہ کوئی قلیل المدتی پوسٹ نہیں بلکہ ایک مستقل پوسٹ ہے،میاں شہباز شریف ہماری پارٹی کے صدر اور وہی اپوزیشن لیڈر رہیں گے، ان کی غیر موجودگی میں ہم خلاء کو پُر کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میری 61سال عمر ہو گئی ہے اور 32سال سے میں سیاست میں ہوں کوئی شخص بتا دے میں نے کسی کو دھمکی دی ہو۔ نیب کے پراسیکیوٹر یا تفتیشی افسر بتادیں کسی کو میں نے کوئی دھمکی دی ہو۔ میں تو ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے لگا ہوں، جب پراسیکیوٹرجو کہ حکومت اور ریاستی ادارے  کی نمائندگی کرتا ہے وہ جھوٹ بولنا شروع کردے دو تو پھر ملک میں انصاف کہاں رہ جائے گا۔ یہ پیٹیشن تیار ہو گئی ہے اور امیدہے میرے وکیل آئندہ ہفتے 10دن میں عدالت میں دائر کر دیں گے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ طاقت جس کے پاس بھی ہے اس کا مقصد تو ایک ہی ہے کہ ملک ترقی کرے، اگر مقصد یہ نہیں ہے تو پھر بات نہیں ہو سکتی، جو ادارہ بھی ہو  میں امید کرتا ہوں کہ سب کا مقصد ایک ہے  کہ ہم نے ملک کو ترقی دینی ہے اور پاکستان کے عوام کے مسائل حل کرنے ہیں۔ ایک گورننس کا ماڈل نہیں چل رہا اور ہم نے اس میں بہتری لانی ہے، دنیا میں یہ ہوتا ہے یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے، آپ معاہدہ کرتے ہیں کہ یار ہم نے ملک ایسے چلانا ہے۔ یہ معاہدہ نہیں ہو گا تو سب کے لئے بڑی مشکلات ہیں اور یہ فیصلہ ہم سب کا ہے۔