صحر ا میں جدید شہر ۔۔۔ہر بلاک خود کفیل ہوگا ۔۔!

The line City, Kingdom Saudi Arabia

 سعودی عرب اپنے ملک کو سرسبز بنانے کے عزم کے تحت ایک ایسا شہر بسانا چاہتا ہے۔ جہاں اندھیرے میں جگمگاتے ساحل، مقناطیسی قوت سے زمین کے اوپر دوڑتی مسافر ٹرینیں، ایک نقلی چاند، صحرا کے ساتھ ساتھ 100 میل طویل ماحول دوست شہر ہوگا۔یہ مستقبل میں بسائے جانے والے ایک مجوزہ شہر ’نیوم‘ میں بننے والے کچھ منصوبے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب واقعی ہونا ممکن ہے؟نیوم انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ مستقبل کا ایک ایسا شہرہوگا جس کے تحت انسانیت ترقی اور جدیدیت کی منازل تو طے کرے گا۔شہر بسانے کے اس منصوبے کی مالیت لگ بھگ 500 ارب ڈالر ہے اور یہ سعودی عرب کے وژن 2030 کے بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت سعودی عرب اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے چھٹکارا دلا پائے گا۔ واضح رہے کہ تیل کی صنعت نے ہی سعودی عرب کو دولت سے مالا مال ملک بنایا ہوا ہے مگر اب سعودی عرب چاہتا ہے کہ ملکی معیشت کا تیل پر انحصار کم سے کم ہو۔یہ شہر مجموعی طور پر 26,500 مربع کلومیٹر (10,230 مربع میل) کے رقبے پر تعمیر کیا جائے گا، یہ رقبہ کویت یا اسرائیل کے انفرادی رقبے سے بڑا ہے۔

شہر کے منصوبہ سازوں کا دعویٰ ہے کہ اس شہر میں سعودی قوانین لاگو نہیں ہوں گے کیونکہ یہ ایک خود مختار علاقہ ہو گا جس کے نظام کو سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جائے گا۔اس بڑے خطے میں ایک 170 کلومیٹر (105 میل) طویل شہر کی تعمیر شامل ہو گی جسے ’’دی لائن‘‘ کہا جائے گا اور یہ صحرا میں خط مستقیم کے طور پر آباد ہو گا۔ دوسری جانب لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک پاگل پن قسم کا منصوبہ ہے جس پر سینکڑوں اربوں ڈالر لاگت آئے گی۔

منصوبہ سازوں کا دعویٰ ہے کہ جب یہ شہر مکمل ہو جائے گا تو اس میں تیز رفتار ٹرینوں کے ذریعے سفر ہو گا۔ اور شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچنے میں زیادہ سے زیادہ 20 منٹ لگیں گے۔

نیوم کا تجارتی یا کمرشل مرکز بھی دلچسپ ہو گا جو بذات خود ایک پانی پر تیرتا ہوا چھوٹا شہر ہو گا۔ منصوبے کے مطابق شہر کا تجارتی مرکز سات کلومیٹر (4.3 میل) کے رقبے پر محیط ہو گا اور یہ دنیا کا سب سے بڑا تیرتا ہوا تعمیراتی ڈھانچہ ہو گا۔نیوم منصوبے کے قابل عمل یا پائیدار ہونے کا اندازہ لگاتے وقت بہت سی چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر یہاں کے باسی جو خوراک کھائیں گے کیا وہ مقامی سطح پر رہتے ہوئے تیار کی جائے گی جس میں وسائل کا زیادہ استعمال نہ ہو یا اس شہر کا انحصار بیرون ملک سے کھانوں کی درآمد پر ہو گا؟ نیوم ’خوراک کے معاملے پر دنیا کا سب سے زیادہ خود کفیل شہر‘ ہو گا۔ خیال رہے کہ نیوم شہر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خواب ہے۔ناقدین یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ سعودی عرب کے زمینی حقائق سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے ماحول کے بارے میں بڑے بڑے دعوے اور وعدے کر رہے ہیں اور سبز باغ دکھا رہے ہیں۔یہ شہر ولی عہد کے ’سرسبز سعودی عرب‘ کے تصور کا حصہ ہے۔

نیوم شہر کو نئے سرے سے ہوا اور شمسی توانائی سے چلنے والا ایک سمارٹ، پائیدار شہر بنانا ضروری ہے، جس میں کاربن سے پاک صاف کرنے والے پلانٹس کے ذریعے پانی فراہم کیا جائے۔کیونکہ مشرق وسطیٰ میں پانی ختم ہو رہا ہے۔اسے اشتہار میں شمسی توانائی سے مالامال شہر کے روپ میں پیش کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب ایک خشک ملک ہے اور اس کا تقریباً نصف پانی ڈی سیلینیشن پلانٹس کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ صنعتی پلانٹس سمندری پانی سے نمک الگ کرتے ہیں اور ایسا کرنے کے لیے پیٹرول درکار ہوتا ہے۔ یہ ایک مہنگا عمل ہے اور اس سے پیدا ہونے والے ضمنی پراڈکٹ، نمکین پانی اور زہریلے کیمیکلز کا گارا سمندر میں واپس پھینک دیا جاتا ہے، جس کے سمندری ماحولیاتی نظام کے لیے نقصان دہ نتائج ہوتے ہیں۔

نیوم ’ایک تجرباتی منصوبہ ہے۔ لیکن مشرق وسطیٰ میں پانی کے مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہیں، اگر یہ منصوبہ کام کرتا ہے، تو نیوم نے جو کچھ کیا ہے وہ قابل قدر ہو گا۔لیکن موسمیاتی ماہرین کو تشویش ہے کہ غیر ثابت شدہ ٹیکنالوجیز پر انحصار کرنا موسمیاتی تاخیر کا باعث ہو سکتا ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے خلاف اہم کارروائی کی راہ میں حائل ہو سکتا ہے۔ اسے بعض اوقات ’تکنیکی لحاظ سے پْرامید‘ ہونے کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔بحیرہ احمر کے ساحل اور اردن کی پہاڑی سرحد کے درمیان کا ویران خطہ شاید ایک چھوٹی ریاست بنانے کے لیے بالکل خالی کینوس کی طرح لگتا ہے۔ تاہم وہاں پہلے سے ہی لوگ آباد ہیں۔ یہ لوگ قدیم اور روایتی طور پر خانہ بدوش بدو ’’الحویطات قبیلے‘‘ کے افراد ہیں۔ یہ منصوبہ اس پسماندہ خطے میں ملازمتیں پیدا کرنے اور دولت پیدا کرنے کا وعدہ کرتا ہے، لیکن ابھی تک مقامی آبادی کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے۔

میگا سٹی کی تعمیر کے لیے دو قصبوں کو خالی کروا دیا گیا ہے اور حویطات قبیلے کے 20 ہزار افراد کو مناسب معاوضے کی ادائیگی کے بغیر زبردستی بیدخل کیا گیا ہے۔یہاں تک مقامی لوگوں کے انخلا کی کارروائی کے دوران ایک آدمی مارا بھی گیا تھا۔ اپریل 2020 میں عبدالرحیم الحویطاتی نے تبوک میں اپنے گھر سے جبری طور پر بیدخل ہونے سے انکار کر دیا تھا اور سوشل میڈیا پر آن لائن ویڈیوز پوسٹ کرنا شروع کر دی تھیں۔کچھ دن بعد انہیں سعودی سکیورٹی فورسز نے گولی مار دی تھی ہلاک ہونے والے شخص نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ انہیں قتل کیا جا سکتا ہے۔

چمکدار پروموشنل ویڈیوز ایک کاسموپولیٹن شہر کے اپنے قوانین اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ تمام چمک دمک اور گلیمر کو دکھاتے ہیں، یہ علاقہ سعودی عرب پر حکومت کرنے والے پرانے محافظوں سے آزاد ہے۔بہرحال ناقدین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں زیادہ امیروں کی ضرورتیں پوری ہوں گی اور اُن کا خیال رکھا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے شاہی خاندان کے لیے یہاں محلات بنائے گئے ہیں۔ پہلے تعمیراتی منصوبوں کی سیٹلائٹ سے لی جانے والی تصاویر میں ایک ہیلی پیڈ اور ایک گالف کورس دکھائی دیتے ہیں۔اس شہر میں ’’مزدوروں سے لے کر ارب پتیوں تک‘‘ ہر ایک کو رکھا جائے گا، حالانکہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ عمومی سطح پر اس دعوے کو قبول عام حاصل نہیں ہے۔نیوم کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی بات پہنچانے کی حکمت عملی میں ناکام رہا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف ایک امیر آدمی کا کھلونا ہے۔

 اقتصادی نقطہ نظر سے کسی ایسے ملک سے جس کا انحصار حد درجہ تیل اور گیس پر ہو اس سے یہ توقع کرنا بہت مشکل ہو گا کہ وہ اچانک اس کا استعمال بند کر دے اور اپنے پاس موجود وسائل کا نکالنا بند کر دے۔سعودیوں کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کی توانائی کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں ہائیڈرو کاربن کی مانگ اب بھی موجود ہے۔پس پردہ سعودیوں اور ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک نے مسلسل بین الاقوامی ماحولیات کے وعدوں کی خاطر اپنی زبان کو نرم کرنے کی کوشش کی ہے۔’یہ بہت حد تک اسی بیان بازی اور اس قسم کی زبان کا استعمال ہے جسے سعودی عرب موسمیاتی تبدیلی کے مذاکرات کے آغاز سے ہی فروغ دے رہا ہے۔سعودی عرب ایک سبز مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے اور اگرچہ اس بارے میں ابھی سوالات کیے جا رہے ہیں کہ آیا نیوم اپنے وعدوں پر پورا اترے گا کہ نہیں۔

٭٭٭