سکردو: چائنا پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں گلگت بلتستان کو نظر انداز کرنے پر ہزاروں افراد نے اسکردو میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کی احتجاجی تحریک کے دوسرے مرحلے کے دوران اسکردو میں ہونے والے مظاہرے میں گلگت بلتستان کے10 اضلاع کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔پیپلز پارٹی گلگت بلتستان ونگ نے موقف اختیار کیا کہ جب تک گلگت بلتستان کے آئینی حقوق اور سی پیک سے وابستہ مفادات کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جاتا احتجاج جاری رہے گا۔

پیپلز پارٹی رہنماوں کا کہنا تھا کہ حکومت نے سی پیک میں گلگت بلتستان کا 439 کلومیٹر علاقہ حاصل کیا ہے تاہم صوبے کو سی پیک میں کوئی حصہ نہیں دیا گیا۔احتجاج کی قیادت کرنے والے رہنماں نے کہا کہ سی پیک کے تمام 42 ارب ڈالر پنجاب اور دیگرعلاقوں کی ترقی پر خرچ ہورہے ہیں جبکہ سی پیک کے نام پر گلگت بلتستان کے عوام کی اربوں روپے کی زمین جبری طور پر سرکاری قبضے میں لے لی گئی ہے۔پییپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے دورہ چین میں تمام وزرائے اعلیٰ کو شامل کرنا اور گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کو نظر انداز کرنا وفاقی حکومت کے اس علاقے سے امتیازی سلوک اور استحصالی پالیسیوں کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔

امجد ایڈووکیٹ نے کہاکہ سی پیک میں علاقے کے عوام کے حقوق کے حصول اورآئینی حقوق کی تحریک کا اگلا احتجاجی اجتماع ضلع غزر میں ہو گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حویلیاں پورٹ کی تعمیر کے لیے چین میں ہونے والا معاہدہ گلگت میں پاک چین بارڈر پر واقع بندرگاہ کو بند کرنے کی سازش ہے۔انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ حویلیاں پورٹ کی تعمیر سے گلگت کے سیکڑوں تاجر اور مزدور بیروزگار ہوجائیں گے۔خیال رہے کہ یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین کے وسیع تجارتی نیٹ ورک کے منصوبے کے فروغ کے لیے وزیراعظم نواز شریف چاروں وزرائے اعلی سمیت بیجنگ میں موجود ہیں۔اس کانفرنس کا مقصد بین الاقوامی تعاون کے ذریعے مشترکہ ترقی کو فروغ دینا ہے، جبکہ پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک)بھی ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا اہم حصہ ہے۔یاد رہے کہ 5 جولائی 2013 کو وزیراعظم نواز شریف نے اپنے دورہ چین کے موقع پر چینی صدر سے ملاقات میں پاک-چین اکنامک کوریڈور کے تحت آٹھ منصوبوں کی مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کیے تھے، جن میں گوادر سے کاشغر تک 2 ہزار کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر کا منصوبہ بھی شامل ہے۔اس کے بعد سن 2015 میں چینی صدر شی جن پنگ کی پاکستان آمد کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت 51 معاہدوں کی یاداشتوں پر دستخط کیے گئے تھے۔

اس منصوبے کو پاکستان اور خطے کی قسمت بدلنے کے حوالے سے ایک 'گیم چینجر' کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔سی پیک کے تحت گوادر میں ہی ایکسپریس وے کی تعمیر سمیت بلوچستان میں توانائی کا بھی ایک بڑا منصوبہ شامل ہے، جبکہ کئی منصوبوں پر ملک کے دیگر صوبوں میں کام کیا جائے گا۔

مصنف کے بارے میں