غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی، ترکی نے اسرائیل اور امریکا سے سفیر بلا لیے

غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی، ترکی نے اسرائیل اور امریکا سے سفیر بلا لیے
ترکی کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہیں۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

انقرہ: غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف ترکی نے اسرائیل اورامریکاسے سفیر واپس بلا لیے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہیں۔ جنوبی افریقا نے بھی تل ابیب سے اپنے سفیر واپس بلالیے ہیں۔


سعودی عرب نے بھی واقعے کی شدید مذمت کی ہے جبکہ کویت نے آج سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کر دی ہے۔ سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی شہادت کی صاف اور آزادانہ تحقیقات کامطالبہ کرتےہیں۔

علاوہ ازیں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم نے خون ریزی روکنے اور ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی اپیل کی ہے۔

مزید پڑھیں: ترکی کا اصل دوست برطانیہ ہے: رجب طیب اردوغان

ادھرغزہ سرحد پر احتجاج کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 58 ہوگئی ہے۔ یہ ہلاکتیں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہوئی ہیں۔ان ہلاکتوں کو 2014ء میں غزہ اور اسرائیل جنگ کے بعد سب سے ہلاکت خیز دن قرار دیا جا رہا ہے۔ فلسطینی صدر نے سانحے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی نے فلسطینی طبی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس دوران 1200 سے زائد فلسطینی زخمی ہیں اور ان میں سے تقریباً ساڑھے چار سو براہ راست فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہوئے ہیں۔

ان میں سے 86 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سولہ سال سے کم عمر آٹھ بچے بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے مفادات متاثر نہ ہوئے تو عالمی جوہری ڈیل پر کاربند رہیں گے: حسن روحانی

دوسری جانب امریکا غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کی اقوام متحدہ کی تحقیقات میں رکاوٹ بن گیا اور غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کی سلامتی کونسل کی تحقیقات کی درخواست امریکا نے بلاک کر دی ہے۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں