اسرائیلی بمباری میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد شہید، مجموعی تعداد 140 ہو گئی، 36 بچے بھی شامل

اسرائیلی بمباری میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد شہید، مجموعی تعداد 140 ہو گئی، 36 بچے بھی شامل
سورس:   file photo

مقبوضہ بیت المقدس: غزہ میں رات بھر اسرائیلی جیٹ طیاروں کی متعدد ٹھکانوں پر بمباری کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد شہید ہو گئے جبکہ مجموعی طور پر شہداءکی تعداد 140 ہو گئی ہے جن میں 36 بچے بھی شامل ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں شہداءکی تعداد 140 ہو گئی ہے جس میں 36 بچے بھی شامل ہیں جبکہ ایک ہی خاندان کے 10 افراد بھی جام شہادت نوش کر گئے۔ 

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے اب تک غزہ شہر میں 800 سے زیادہ مقامات کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد عمارتیں زمیں بوس ہو گئیں۔ فلسطینی شہری سکولوں اور مسجدوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جبکہ وحشیانہ حملوں کے باعث 10 ہزار سے زائد فلسطینی گھر چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

اسرائیل کی فلسطینیوں پر وحشیانہ بم باری عید الفطر پر شدت اختیار کر گئی، غزہ میں اسرائیلی فوج نے ایک اور فضائی حملہ کیا جس میں بچوں سمیت 8 افراد شہید اور 5 لاپتہ ہو گئے جس کے بعد مجموعی طور پر شہید ہونے والوں کی تعداد 140 ہو گئی جبکہ 830 افراد اب تک زخمی ہو چکے ہیں، گزشتہ روز غزہ میں 13 اور رام اللہ میں 10 فلسطینی اسرائیلی درندگی کا نشانہ بنے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اب تک اسرائیل غزہ میں 800 سے زائد اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے، صیہونی حملوں میں متعدد عمارتیں زمیں بوس، غزہ کے شہری سکولوں اور مساجد میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جبکہ اسرائیل کی جانب سے غزہ شہر میں حماس کے آپریشن آفس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

دوسری جانب حماس کے راکٹ حملوں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد 9 ہو گئی۔ ادھر غزہ کے شمال مشرقی علاقوں میں اسرائیلی حملوں کے پیش نظر 10 ہزار افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ لبنان اور شام کی سرحد سے جڑے اسرائیلی علاقوں میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے، حزب اللہ نے اسرائیلی فائرنگ سے کمانڈر محمد قاسم کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کر دی جبکہ جنوبی شام سے اسرائیل پر تین راکٹ داغے گئے۔