بحرہند کا طوفان شدت اختیار کرنے لگا،17 مئی سے طوفانی بارشوں کااندیشہ،ریڈالرٹ جاری

بحرہند کا طوفان شدت اختیار کرنے لگا،17 مئی سے طوفانی بارشوں کااندیشہ،ریڈالرٹ جاری
سورس:   file photo

حیدرآباد ،بحرہند میں بننے والا طوفان شدت اختیار کرنے لگا ،  17مئی سےمتوقع طوفانی بارشوں کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ۔ 

کمشنرحیدرآباد ریجن کے دفتر میں کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے اور اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کنٹرول روم میں ملازمین 24گھنٹے اپنی ڈیوٹی سر انجام دیں گے۔ 

 علاوہ ازیں تھرپارکر  میں بھی متوقع سمندری طوفان کے پیش نظرالرٹ جاری کردیا گیا ہے اور ڈپٹی کمشنر آفس میں کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے۔

بحرِہند میں بننے والا سمندری طوفان کراچی کے جنوب اور جنوب مشرق سے 1460 کلومیٹر کے فاصلے پر  موجود ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق موسمی سسٹم کےباعث 17 سے 20 مئی کےدوران ٹھٹہ، بدین، تھر، میرپورخاص، عمرکوٹ، سانگھڑ میں بارش کا امکان ہے،  ہواؤں کی رفتار 70 سے 90 کلو میٹرتک رہے گ۔

اس کے علاوہ  حیدرآباد،کراچی،جام شورو،شہیدبینظیرآبادمیں 18سے20 مئی کےدوران گرد آلود ہوائیں چلنے اور بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ کراچی سمیت سندھ کے کئی علاقوں میں گرمی کی لہر آ سکتی ہے،  درجہ حرارت 42 سے 43 درجے تک جا سکتا ہے۔ 

خیال رہے کہ جنوب مشرقی بحیرہ ہند میں موجود ہوا کا کم دباؤ سمندری طوفان کی شکل اختیار کر گیا ہے جس کے باعث پاکستان اور بھارت کی ساحلی پٹی پر تیز ہوائیں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کے مرکز میں ہواؤں کی رفتار 70 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جو بڑھ کر 100کلومیٹر تک بھی جا رہی ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہےکہ سمندری طوفان کراچی کے جنوب اور جنوب مشرق سے 1460کلو میٹر کے فاصلے پرہے اور سمندری طوفان کا رخ شمال اور شمال مغرب یعنی بھارتی گجرات کی جانب رہےگا۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ  18 مئی تک سمندری طوفان بھارتی گجرات تک پہنچ جائے گا۔

ٹاک ٹائی نامی سمندری طوفان کے نتیجے میں بھارتی ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں اور پاکستانی سمندر کے قریب مشرق کی جانب ساحلی علاقوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

اگر یہ سمندری طوفان شدت پکڑ گیا تو یہ پچھلی دو دہائیوں کے دوران پاک بھارت ساحلی پٹی سے ٹکرانے والا طاقت ور ترین طوفان ہو گا تاہم ابھی تک کے اندازوں کے مطابق سمندری طوفان آبادی والے ساحلی علاقوں سے دور رہے گا لیکن مہاراشٹرا کا ساحلی شہر ممبئی اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔