غیر معمولی حالات میں غیر معمولی فیصلے

غیر معمولی حالات میں غیر معمولی فیصلے

کیا اب بھی کوئی شک رہ گیا ہے کہ سابق وزیراعظم غدار کس کو قرار دے رہے ہیں۔ ایک جلسہ میں انہوں نے وضاحت کی ہے کہ وہ میر جعفر اور میر صادق کی اصطلاح شہبازشریف کے لیے استعمال کرتے ہیں تاہم اسی جلسہ میں فواد چوہدری نے وضاحت سے بتا دیا کہ جب گھر پر ڈاکو حملہ کر دیں تو چوکیدار نیوٹرل نہیں رہ سکتا۔ یعنی موجودہ حکومت ڈاکو ہے جس نے ملک پر قبضہ کیا ہے اور فوج چوکیدار ہے جس نے انہیں نہیں روکا۔ عمران خان نے بعد ازاں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے حوالے سے دوبارہ گفتگو کی اور بتایا کہ جب تک عام انتخابات کا اعلان نہیں ہو جاتا وہ کسی سے کوئی گفتگو نہیں کریں گے۔ اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ"آخری دن تک اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات اچھے رہے، صرف 2 معاملات پر اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف رہا، مقتدر حلقے چاہتے تھے عثمان بزدار کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے ہٹاؤں، اگر میں عثمان بزدار کو ہٹاتا تو پنجاب میں پارٹی تقسیم ہوجاتی، کیونکہ مختلف دھڑوں کو کوئی اور شخص بطور وزیراعلیٰ قابل قبول نہیں ہوتا۔" یعنی اس بات کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی علم تھا کہ عثمان بزدار صوبے کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور عمران خان اس کے باجود انہیں جاری رکھنا چاہتے تھے۔ دوسرے اختلاف کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ "میں چاہتا تھا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی سردیوں تک رہیں، انہیں برقرار رکھنے کی وجہ افغانستان کی صورت حال تھی۔اللہ پاک کو گواہ بناکر کہتا ہوں، سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو آرمی چیف بنانے کا سوچا ہی نہیں تھا۔"

بنی گالہ میں صحافیوں کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں انہوں نے فوج کے حوالے سے اپنے بیانات کے کئی پرت کھولے۔ ان کا کہنا تھا کہ شریف برادران کے علاؤہ بھی کئی مہر جعفر اور میر صادق ہیں اور وقت آنے پر وہ ان کا نام بھی منظر عام پر لائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں علم ہے کہ لندن میں کون کس سے اور کہاں ملاقاتیں کرتا رہا ہے۔ وہ ان ملاقاتوں کا حوالہ دے رہے تھے جس میں ایک اعلیٰ شخصیت نے لندن میں ملاقات کر کے نوازشریف کو عمران خان کو ہٹانے پر راضی کیا تھا۔ فوج کے اعلی عہدیداران کے فون بلاک کرنے کے حوالے سے پہلے بھی خبریں آ چکی ہیں تاہم اس ملاقات میں انہوں نے اس کی تصدیق کر دی کہ "اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پیغامات آرہے ہیں، میں کسی سے بات نہیں کر رہا، ان لوگوں کے نمبر بلاک کرچکا ہوں، جب تک عام انتخابات کا اعلان نہیں ہوتا، کسی سے بات نہیں ہوگی۔"

صحافیوں کے ساتھ ہونے والی اس گفتگو میں بہت سی چیزیں واضح ہونا شروع ہوئی ہیں۔ اب یہ کہنا کہ یہ امریکی سازش ہے وہ بالکل غلط ہے۔ فوج اور عمران خان کے اختلافات جنرل فیض کے تبادلے کے ساتھ واضح ہو گئے تھے اور انہی اختلافات کا نتیجہ ہے کہ آج وہ جگہ جگہ جلسے کر رہے ہیں۔ امریکی سازش کا بیانیہ اس وقت کے سفیر کے ساتھ مل کر گھڑا گیا اور اس کی من پسند تشریح کی گئی۔

اس ملاقات میں یہ بات بھی کنفرم ہو گئی کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے ملک پر ایک لمبے عرصہ تک حکمرانی کے منصوبے سے واقف تھی اور یہی وجہ ہے کہ بہت زیادہ حالات خراب ہونے کے باوجود  نوازشریف اقتدار کی تبدیلی پر راضی ہوئے ورنہ معیشت کے جو حالات تھے اس میں کوئی بھی باشعور سیاست دان سال ڈیڑھ سال کے لیے اس خواری کو اپنے کھاتے میں نہ ڈالتا۔ 

حکومت محض اس وجہ سے گرائی گئی ہے کہ عمران خان نے انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کا جو منصوبہ بنایا تھا اسے ختم کیا جائے۔ موجودہ حکومت اور اس کے اتحادی بھی جلد انتخابات چاہتے ہیں لیکن اس سے پہلے وہ انتخابی اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ عمران کی صرف ایک ہی حکمت عملی ہے کہ وہ حکومت پر اتنا دباؤ ڈالے کہ جلد از جلد انتخابات کا اعلان ہو سکے۔ 

لندن میں نوازشریف کی قیادت میں ہونے والے اجلاس میں بہت سے فیصلے ہوں گے اور یقینی طور پر اس تمام صورتحال کو سامنے رکھا گیا ہو گا۔ خواجہ آصف اور مریم نواز شریف پہلے ہی جلد انتخابات کی بات کر رہے ہیں۔ آصف علی زرداری نے بھی اس سے اتفاق کیا ہے تاہم یہ کہا ہے کہ نوازشریف کے ساتھ ان کی بات ہوئی ہے اور وہ یہ بتا رہے ہیں کہ انتخابات نظام کو ٹھیک کئے بغیر نہیں ہوں گے۔ سیاسی حالات کی خرابی کی وجہ سے معیشت ڈانواں ڈول ہے اور لندن میں ہونے والے اجلاس کے بعد غیر یقینی کی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے۔

اس سیاسی کشمکش میں فوج پر دونوں طرف سے الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ تحریک انصاف اور اس کے کارکن سرعام جنرل باجوہ اور ان کے ساتھیوں کو سوشل میڈیا پر ہدف تنقید بنا رہے ہیں اور مریم نواز شریف نے جنرل فیض کی جانب اشارہ کیا ہے۔ آصف زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل فیض کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں کھڈے لائین لگا دیا گیا ہے۔ اس ماحول میں آئی ایس پی آر نے ایک بار پھر سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں۔ترجمان پاک فوج کے بیان میں کہا گیا کہ پشاور کور پاک فوج کی ایک ممتاز فارمیشن ہے جودو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے اور اس اہم کور کی قیادت ہمیشہ بہترین پیشہ وارانہ ہاتھوں کو سونپی گئی ہے۔ افواج پاکستان کے بہادر سپاہی اور افسر ہمہ وقت وطن کی خود مختاری اور سالمیت کی حفاظت اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کررہے ہیں۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم کافی عرصے سے بطور ادارہ برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے اور اسے سیاسی گفتگو کا حصہ نہ بنایا جائے۔ ہمارے ملکی سلامتی کے چیلنج بہت زیادہ ہیں، ہماری افواج مشرقی، مغربی اور شمالی سرحدوں اور اندرونی سیکورٹی کے حوالے سے انتہائی اہم ذمہ داریاں سرانجام دے رہی ہیں اور تمام تر فوجی قیادت کی توجہ ان ذمے داریوں اور اپنے ملک کی حفاظت پر ہے۔ 

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سماج دشمن اور انتشار پسند عناصر بیرون ملک بیٹھ کر سوشل میڈیا کے ذریعے حساس قومی اداروں کے بارے میں گمراہ کن پوسٹیں بھیج کر ملک میں بدامنی کو ہوا دینے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں جن کے پیچھے ازلی دشمن بھارت کے ہاتھ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ کراچی میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں جنھیں بنیاد بناکر سماج دشمن عناصر ملک میں انتشارپیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں حکومت اور عسکری ادارے تو اگرچہ ایک پیج پر ہیں تاہم صورت حال پر قابو پانے کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے بے چینی پیدا کرنے والے عناصر کے گرد گھیرا تنگ کرنا ضروری ہے۔

کیا اس بات میں کوئی شک ہے کہ تحریک انصاف کے بہی خواہ بیرون ملک میں بیٹھ کر پاک فوج کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے کو ایک باقاعدہ جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان کے اندر سے بھی گمنام اکاؤنٹس کے ذریعے یہ سلسلہ جاری ہے اور رہی سہی کسر پی ٹی آئی کے سربراہ اور اس کی قیادت کے لوگ پوری کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف اس ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلنا چاہتی ہے اور اس کے کئی اشارے موجود ہیں۔ عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں شاہ محمود قریشی کا ایک بیان بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے کہ کس طرح پورے ملک کو جام کرنا ہے۔ حکومت اس فتنے کو کچلنے کے لیے نرمی دکھا رہی ہے اور اس کا اثر پاکستان کی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ ہم پہلے بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ معاملہ ایک مضبوط کمٹنٹ کے بغیر حل نہیں ہو گا اور جب تک ان عناصر کی بیخ کنی نہیں کی جاتی جو اس معاشرے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں حالات کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔

عالیجاہ اقتدار پھولوں کی سیج نہیں ہے اور ان حالات میں جب اپوزیشن کی پوری کوشش ہو کہ حالات کو خراب سے خراب تر کیا جائے آپ کی نرمی اور برداشت ملک کا بیڑہ غرق کر رہی ہے۔ حالات کو بہتر کرنے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پھر حالات حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے۔ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں