سان ڈیاگو: مشہورِ زمانہ گرافک سافٹ ویئر ’’فوٹو شاپ‘‘ اور ویڈیو ایڈیٹنگ ٹُول ’’پریمیئر‘‘ بنانے والی امریکی کمپنی ’’ایڈوبی‘‘ نے گزشتہ ہفتے ایک تشہیری کانفرنس میں اپنے تازہ ترین آڈیو ایڈیٹنگ سافٹ ویئر کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔اس سافٹ ویئر کا منصوبہ جسے ’’پروجیکٹ ووکو‘‘ (Project VoCo) کا نام دیا گیا ہے، ایڈوبی کمپنی اور پرنسٹن یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیموں کے اشتراک سے جاری ہے اور اسے ’’آڈیو ایڈیٹنگ کا فوٹوشاپ‘‘ بھی قرار دیا جارہا ہے۔

بنیادی طور پر یہ مصنوعی ذہانت رکھنے والا ایک سافٹ ویئر ہے جو کسی شخص کی 20 منٹ تک گفتگو ریکارڈ کرکے اسے تحریر (ٹرانسکرپٹ) میں تبدیل کرتا ہے اور آواز کو صوتی اکائیوں (phonemes) میں تبدیل کرکے محفوظ کرلیتا ہے۔ اس طرح یہ آواز کو ’’کٹ، کاپی اور پیسٹ‘‘ کی طرز پر نہ صرف ایڈٹ کرسکتا ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر آڈیو کلپ میں ٹھیک اُسی آواز اور اسی لب و لہجے میں مزید جملے بھی شامل کرسکتا ہے؛ جنہیں سننے کے بعد یہ گمان بھی نہیں ہوسکتا کہ یہ آواز اصل میں اسی شخص کی ہے یا کوئی سافٹ ویئر استعمال کرتے ہوئے شامل کی گئی ہے۔

ایڈوبی کمپنی کے مطابق یہ منصوبہ ابھی زیرِتکمیل ہے اس لئے وہ اس کے اجراء کی تاریخ اور ممکنہ قیمت کے بارے میں کچھ نہیں بتاسکتی۔ لیکن انٹرنیٹ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سافٹ ویئر کا غلط استعمال خطرناک نتائج بھی دے سکتا ہے کیونکہ اسے استعمال کرتے ہوئے بالکل اصل جیسی جعلی آڈیو کلپس بھی تیار کی جاسکیں گی جنہیں پکڑنا بہت مشکل ہوگا۔

یہ امکان اس لئے بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پہلے ہی ایڈوبی فوٹوشاپ استعمال کرتے ہوئے انٹرنیٹ پر جعلی تصاویر کی بہت بھرمار ہوچکی ہے۔ اس کے باوجود، سہولت کے ساتھ معیاری آڈیو ایڈیٹنگ کی صلاحیت اور بھی بہت سے فائدوں کا باعث بن سکتی ہے جو فی الحال ممکن نہیں۔