اسلام آباد : وزیراعظم کے بچوں نے 89 صفحات پر مشتمل تحریری جواب  سپریم کورٹ میں جمع کروادیا ۔  دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ لندن کے فلیٹس قطر کے الثانی خاندان نے خریدے ۔فلیٹس کی ملکیت نیلسن اور نیسکول نامی کمپنی کی تھی ۔ کوومبر گروپ ، نیسکول لمیٹڈ اور نیلسن لمیٹڈ کے حوالے سے حسین نواز اور مریم نواز کے درمیان معاہدہ 2 فروری 2006ء کو طے پایا۔ 

عدالت عظمیٰ میں دستاویزات جمع کروائیں ۔ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ حسین نواز بینی فشری ہیں اورمریم صفدر ٹرسٹی ہیں۔ ہارورڈ کینیڈی لا فرم نے ٹرسٹ ڈیڈ کے اصل ہونےکی تصدیق کی ہے۔ ٹرسٹ ڈیڈ حسین نواز کےحق میں کسی بھی برطانوی عدالت میں قابل قبول ہے۔

دستاویزات کےمطابق ٹرسٹ کےقیام کامعاہدہ حسین نوازاورمریم صفدرکےدرمیان ہوا۔ یہ ٹرسٹ 3 کمپنیوں سےمتعلق قائم کیا گیا۔ ٹرسٹی کا یہ معاہدہ 2 فروری 2006 کو طےپایا۔ مریم صفدربحیثیت ٹرسٹی بینی فشری حسین نواز کے تحت ہیں۔ بینی فشری حسین نواز،ٹرسٹی مریم صفدرکےکمپنی سےمتعلق اخراجات واپس کرےگا۔ کمپنیوں میں کوومبرگروپ،نیسکول لمیٹڈ،نیلسن لمیٹڈ شامل ہیں۔

دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ بینی فشری حسین نوازکےانتقال کی صورت میں ٹرسٹی مریم صفدرتمام شیئرزفروخت کرینگی۔ شیئرزکی رقم کوبینی فشری اسلامی شرعی قوانین کیمطابق ،تناسب سےتقسیم کرےگا۔ اگرکوئی قرض ہوا توشیئرزکی رقم کی تقسیم سے پہلےبینی فشری کےقرض ادا کرےگا۔ 

شیئرزکی رقم کوبینی فشری اسلامی شرعی قوانین کیمطابق ،تناسب سے تقسیم کرےگا۔ تمام امورکی نگرانی کیلیےٹرسٹی کسی اہل،پیشہ وراورآزاد پارٹی کاتقررکرسکتاہے۔ ٹرسٹی مریم صفدرکےانتقال یاذہنی معذوری پران کےشیئرزبینی فشری حسین نوازکےپاس جائیں گے۔