سمندری ہوائیں رکنے سے کراچی میں اسموگ کا خدشہ بڑھ گیا: محکمہ موسمیات

سمندری ہوائیں رکنے سے کراچی میں اسموگ کا خدشہ بڑھ گیا: محکمہ موسمیات

کراچیکراچی میں سمندری ہوائیں رکنے کے باعث سرد موسم میں اسموگ کا خدشہ بڑھنے کا امکان ہے،آلودہ ہوائوں کے باعث شہریوں کو ناصرف مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ آنکھوں اور گلے کی انفیکشن اور سانس میں دقت جیسی بیماریوں کا شکار بھی ہو رہے ہیں۔

تاحال کراچی میں اسموگ کا خدشہ انتہائی نوعیت کا نہیں ہے کیونکہ اگر 3سے4 گھنٹے سمندری ہوائیں تواتر سے چلیں تو ہوائیں فضائی آلودگی کو صاف کردیتی ہیں، اس کے برعکس موسم گرما کی طرح سمندری ہوائیں کچھ دن رک جائیں تو بھی  شہر میں اسموگ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

  محکمہ موسمیات کے سابق چیف میٹرولوجسٹ توصیف عالم اورماہرین ماحولیات نے میڈیا سے گفتگو کے دوران  بتایا کہ کراچی میں سمندری ہوائیں رک جانے سے اسموگ کا خدشہ بڑھ گیا  ہے جس طرح گزشتہ سال موسم گرما میں سمندری ہوائیں رک جانے کے باعث کراچی میںگرمی کی لہر (ہیٹ ویو ) آئی تھیں اور درجہ حرارت 49ڈگری تک جا پہنچا تھا جس سے 2ہزار سے زائدافراد جاں بحق ہوگئے تھے اسی طرح موسم سرما میں سمندری ہوائیں   رک جانے  کی صورت میں اسموگ کے خطرہ میں اضافہ ہو گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں20سر فہرست آلودہ ترین شہروں میں پاکستان کے 3 شہروں میں پانچویں نمبر پر کراچی ہے جبکہ چھٹے نمبر پر پشاوراور ساتویں نمبر پرراولپنڈی شہرشامل ہے بھارت کا شہر دہلی پہلے نمبر پر ہے۔ گزشتہ دنوں لاہور اور وسطی پنجاب کے متعدد شہر اسموگ یا آلودہ دھند کی لپیٹ میں رہے جبکہ بھارت کا شہر دہلی تاریخ کی بدترین فضائی آلودگی کا شکار رہا ۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق بھارتی پنجاب میں کسانوں کی جانب سے جلائی جانے والی فصلوں کی باقیات اور گھاس پھوس نذرآتش کرنے سے فضا میں جانےوالا کثیف دھواں  سرد موسم میں منجمد ہوکر اسموگ کا باعث بنا ہے جس سے پاکستان و بھارت کے دونوں اطراف زہریلی دھند میں اضافہ ہورہا ہے۔

تاہم ماہرین ماحولیاتکے مطابق اسموگ کا سبب صرف بھارت نہیں بلکہ پاکستان میں بھی زرعی فضلات کوجلایا گیا ہے اس کے علاوہ ہواؤں کا رخ تبدیل ہونے سے بھی لاہور سمیت دیگر شہروں میں اسموگ رہی۔ ماہر ماحولیات کے مطابق موسم سرما میں درجہ حرارت کی شدت کم ہوجاتی ہے اور فضا میں80فیصد رطوبت بڑھ جاتی ہے،عموماً سرد علاقوں میں صبح کے وقت دھند رہتی ہیںاور جیسے جیسے فضا میں نمی کا تناسب کم ہوجاتا ہے تو دھند بھی کم ہوتی جاتی ہے۔

اسموگ میں سلفرڈائی آکسائیڈ،نائٹروجن آکسائیڈ کاربن ڈائی آکسائیڈ،میتھین اور دیگر ذرات شامل ہوتے ہیں، اسموگ کے موسم میں بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے گریز کیا جائے اور گھر سے باہر جانے سے قبل چشمہ اور ماسک لگانا ضروری ہے،پانی زیادہ پئیں ،گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے مضبوطی سے بند رکھیں،ٹھنڈے پانی سے آنکھوں کو دھوئیں ، اسموگ سے آنکھوں میں سوزش، گلے کی خراش،شدید کھانسی اور دمے و الرجی کے مریض بلخصوص بچے شدید متاثر ہوتے ہیں،چین میں ہر سال17 فیصد اموات اسموگ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔